اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ کے رہنماؤں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات بھی نہیں ہونے دیئے اور خود بھی شہر کے ناقص نظام کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ضلع کوئٹہ کے رہنماؤں حاجی غلام حسین اخلاقی، فرید حسین اور محمد یونس ہزارہ نے شہر کی صفائی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور حکومت کی نااہلی کے باعث کوئٹہ شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر جمع ہو گئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات بھی نہیں ہونے دیئے اور خود بھی شہر کے ناقص نظام کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ حکومت صوبے کے عوام سے کس بات کا بدلہ لے رہی ہے۔

اپنے مشترکہ بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماؤں نے کہا کہ علمدار روڈ پورے شہر میں اپنی صفائی کیوجہ سے جانی جاتی ہے، تاہم جب سے فارم 47 کے جعلی نمائندے کو حلقہ کے عوام پر مسلط کیا گیا ہے، یہ سڑک اپنی رونق کھو رہی ہے۔ صفائی کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جتنی صفائی ہوتی ہے وہ عوام اپنی مدد آپ کے تحت کرتے ہیں۔ جبکہ جعلی نمائندہ کی نااہلی کے باعث شہر ترقی کی بجائے زوال کا سفر طے کر رہا ہے۔ سڑکوں کی حالت بدتر اور صفائی کا نظام ابتر ہوتا جا رہا ہے۔ حکمران اور مسلط کردہ جعلی نمائندہ کرپشن میں مصروف ہیں۔ ان کے پاس شہر کی ترقی و صفائی پر توجہ دینے کے لئے وقت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں بلدیاتی نظام کی فعالیت ناگزیر ہے۔ حکومت وقت بلدیاتی نطام کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر کرپشن کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کی نااہلی کی سزا عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ تاہم ہم جعلی حکمرانوں کو کوئٹہ شہر کو کچرے کے ڈھیر میں بدلنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور کوئٹہ میٹروپولیٹن کے ذمہ داران سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ علمدار روڈ پر جلد از جلد صفائی کے انتظامات کئے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف