علاج کی سہولیات نہ ملنے سے عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے، شوکت یوسفزئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اپنے ویڈیو پیغام میں شوکت یوسف زئی نے کہا کہ وفاقی وزرا جھوٹ بولتے رہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل مینول سے زائد سہولیات دی جا رہی ہیں، سلمان صفدر کی رپورٹ نے سب کا جھوٹ آشکار کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پی ٹی آئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے آنے والی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی کو جیل میں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے اور ان کو علاج معالجے کی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس پر فوری ایکشن لے اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سمیت وزیراعلیٰ مریم نواز کے خلاف بھی ایف آئی آر کاٹی جائے جو سیاسی انتقام میں یہ بھول گئی ہیں کہ قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔ اپنے ویڈیو پیغام میں شوکت یوسف زئی نے کہا کہ وفاقی وزرا جھوٹ بولتے رہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل مینول سے زائد سہولیات دی جا رہی ہیں، سلمان صفدر کی رپورٹ نے سب کا جھوٹ آشکار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے سب سے پاپولر لیڈر ہیں، ان کو جیل میں جو کمرہ دیا گیا ہے وہاں کئی کئی گھنٹے بجلی نہیں ہوتی ہے جس کی وجہ سے گرمیوں میں حبس پیدا ہوتا ہے اور ان کے کمرے میں کیڑے مکوڑے پھرتے ہیں۔ شوکت یوسفزئی نے کہا یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ بانی کو نہ صرف صحت کی سہولیات دینے سے انکار کیا جاتا رہا بلکہ ان کو معیاری کھانا اور دیگر سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا۔ حکمرانوں کے دعوؤں کے برعکس بانی پی ٹی ائی کے کمرے میں موجود ٹی وی بھی نہیں چل رہا اور وہ کھانا بھی اپنے پیسوں سے کھاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائیں کہ انہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بانی کی صحت ٹھیک نہیں ہے، غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
شوکت یوسف زئی نے کہا انہیں یقین تھا کہ سلمان صفدر کی رپورٹ آنے کے بعد سپریم کورٹ نہ صرف یہ کہ ان کے لیڈر سے ان کی فیملی کی ملاقاتوں پر پابندی ختم کرے گی بلکہ ان کے علاج معالجے کے دوران ان کی فیملی کی موجودگی کو لازمی قرار دے گی۔ پی ٹی آئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ بانی کی صحت پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا، ان کا علاج فوری طور پر بانی کی مرضی کے ڈاکٹروں سے کروانے کا حکم دیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شوکت یوسف زئی نے زئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی ا ئی نے کہا کہ انہوں نے کو جیل
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔