پی ایم ڈی سی کا میڈیکل وڈینٹل کالجزمیںزائد فیس پرسخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پی ایم ڈی سی نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں فیس کی حد پر سختی سے عملدرآمد کروانے کا اعلان کر دیا ہے، زیادہ فیس لینے والے 12 میڈیکل اور ڈینٹل کالجزکو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے گئے، پی ایم ڈی سی اور میڈیکل کالجز کی تنظیم “پامی” کے درمیان معاہدہ بھی طے پا گیا ۔
پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے منظورشدہ حد سے زائد فیس وصول کرنے والے میڈیکل و ڈینٹل کالجز کیخلاف کارروائی کی جائے گی ۔ اضافی وصول فیس واپس یا اگلے سال ایڈجسٹ کی جائے گی ۔ طلبا اور والدین متعینہ حد سے زائد فیس ادا نہ کریں ۔ پی ایم ڈی سی اور پامی کے درمیان معاہدے کے مطابق ہر ماہ فالو اپ اجلاس ہو گا ۔ اداروں کیلئے فیس بڑھانے کا مالی جواز فراہم کرنا لازم ہو گا ۔ فیس کی زیادہ سے زیادہ حد پچیس لاکھ روپے ہے ۔ پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ معیاری طبی تعلیم ہر طالب علم کا بنیادی حق ہے جو ہر صورت فراہم کیا جائے گا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔