روس میں واٹس ایپ پر پابندی، صارفین کو سرکاری میسجنگ ایپ استعمال کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
روس نے میسجنگ سروس واٹس ایپ کو مبینہ قانونی خلاف ورزیوں کے باعث بلاک کر دیا ہے اور صارفین کو سرکاری سرپرستی میں تیار کردہ متبادل پلیٹ فارم استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس اقدام کو یوکرین جنگ کے تناظر میں آزادی اظہار پر مزید قدغن لگانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس میں انٹرنیٹ پر نئی قدغنیں، واٹس ایپ پر پابندی کا امکان
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو اعلان کرتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ روسی قوانین کے تقاضوں پر عمل درآمد سے گریزاں تھا، جس کے باعث اس پر پابندی عائد کی گئی۔
انہوں نے روسی شہریوں کو میکس نامی اسٹیٹ بیکڈ پلیٹ فارم کی طرف منتقل ہونے کا مشورہ دیا، جسے میسجنگ، آن لائن سرکاری خدمات اور ادائیگیوں سمیت مختلف سہولتوں کے لیے ایک جامع ایپ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے واٹس ایپ پر جنرل پرپز چیٹ بوٹس پر مکمل پابندی عائد کردی
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ میکس میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن موجود نہیں، جو واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر پیغامات کو نجی رکھنے کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ میکس کھلے عام یہ اعلان کرتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر صارفین کا ڈیٹا حکام کے ساتھ شیئر کیا جاسکتا ہے، جس سے صارفین کی پرائیویسی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم روس میں ڈیجیٹل نگرانی کو مزید مضبوط بنانے اور ریاستی کنٹرول میں اضافہ کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پابندی روس سوشل میڈیا میٹا میکس واٹس ایپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پابندی سوشل میڈیا میٹا میکس واٹس ایپ واٹس ایپ پر
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔