بنگلادیش انتخابات: جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش پر 2 افراد کو دو، دو سال قید
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا:بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے دوران جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کرنے پر دو افراد کو عدالت نے دو، دو سال قید کی سزا سنا دی، جبکہ ایک خاتون پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ یہ انتخابات طلبہ کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کے تقریباً 18 ماہ بعد منعقد ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں دو دہائیوں تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔
رپورٹس کے مطابق سراج گنج-4 اور جھالاکاٹھی-2 کے حلقوں میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کے واقعات پیش آئے۔ سراج گنج میں 22 سالہ روبیل حسین نے پہلے اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور پھر بیرونِ ملک مقیم ایک ووٹر کے نام پر دوبارہ ووٹ ڈالنے کی کوشش کی، جس پر انتخابی حکام نے انہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا اور سمری کورٹ میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں دو سال قید کی سزا سنائی۔
اسی طرح جھالاکاٹھی میں ایک 34 سالہ خاتون کو جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش پر موبائل کورٹ نے دو سال قید کی سزا سنائی اور ساتھ ہی 50 ہزار ٹکہ جرمانہ بھی عائد کیا۔
بنگلادیشی حکام کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی یا دھاندلی کی کسی بھی کوشش پر سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ انتخابی عمل شفاف اور منصفانہ بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دو سال قید
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔