غزہ میں تقریباً 90 فیصد اسکول تباہ ہیں، ہزاروں طلبہ تعلیم سے محروم: انروَا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ:اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروَا) نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی جنگ کے دوران غزہ کی تقریباً 90 فیصد اسکول عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں، جس کے باعث لاکھوں بچے باقاعدہ تعلیم سے محروم ہو گئے ہیں اور انہیں عارضی تعلیمی مراکز یا آن لائن ذرائع سے پڑھنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
انروَا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جو اسکول عمارتیں ابھی کھڑی ہیں ان میں سے بیشتر کو پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں بے گھر فلسطینی خاندان رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، شدید تباہی کے باوجود اس کی ٹیمیں بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی معاہدہ نافذ ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 591 فلسطینی شہید اور 1,578 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، یہ اعداد و شمار مسلسل بدل رہے ہیں کیونکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی غزہ پر جنگ 8 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی اور دو سال تک جاری رہی جس کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران غزہ کے تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا یا مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس میں رہائشی عمارتیں، اسپتال، سڑکیں اور تعلیمی ادارے شامل ہیں۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی بڑے پیمانے پر تباہی سے ایک پوری نسل کی تعلیم خطرے میں پڑ گئی ہے، اگر فوری طور پر تعلیمی ڈھانچہ بحال نہ کیا گیا تو بچوں کی ذہنی نشوونما، مستقبل کے مواقع اور معاشرتی استحکام شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
انروَا نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں تعلیمی نظام کی بحالی، اسکولوں کی تعمیرِ نو اور بچوں کو محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے فوری مالی اور عملی مدد فراہم کی جائے تاکہ جنگ سے متاثرہ نسل کو علم اور امید کی نئی روشنی مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔