معروف فٹبالر پر جنسی زیادتی کے مزید 2 مقدمات؛ ایک اور خاتون مداح سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سابق آرسنل اور گھانا کے مڈفیلڈر تھامس پارٹے کے خلاف جنسی جرائم کے کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق 32 سالہ فٹبالر پر اس سے قبل جولائی 2025 میں بھی جنسی جرائم کے 5 الزامات عائد کیے گئے تھے۔
یہ جنسی جرائم 2021 اور 2022 کے دوران پیش آئے، جب پارٹے نارتھ لندن کلب آرسنل کی نمائندگی کر رہے تھے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آرسنل کے ساتھ ان کا معاہدہ ختم ہونے کے چار دن بعد ان پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
گزشتہ برس عائد کیے گئے یہ الزامات تین خواتین کی جانب سے لگائے گئے تھے تاہم اب استغاثہ نے ایک نئی مدعیہ کی شکایت پر فٹبالر کے خلاف مزید دو الزامات عائد کیے ہیں۔
یہ نئی شکایت مبینہ طور پر اگست 2025 میں درج کرائی گئی تھی جس کے بعد میٹروپولیٹن پولیس نے 2020 سے متعلق الزامات کی ازسرِنو تحقیقات شروع کیں۔
ان الزمات پر تھامس پارٹے کو 13 مارچ کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں ابتدائی سماعت کے لیے پیش ہونا ہے۔
اس سے قبل وہ ستمبر 2025 میں ساؤتھ ورک کراؤن کورٹ میں پیش ہوئے تھے جہاں انہوں نے جنسی زیادتی کے الزامات سے انکار کیا تھا۔
فٹبالر نے خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے قانون کا سامنا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جس پر عدالت نے انہیں مشروط ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ تھامس پارٹے نے 2020 میں ہسپانوی کلب اٹلیٹیکو میڈرڈ سے آرسنل میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ گھانا کی قومی ٹیم کے اہم کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عائد کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔