جوہری معاہدہ نہ کرنے پر ایران کیلئے صورتحال نہایت سنگین اور تکلیف دہ ہوگی، ٹرمپ کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ ایران کیلئے صورتحال نہایت سنگین اور بہت تکلیف دہ ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ آئندہ ایک ماہ کے دوران ایران کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہ کیا تو اسے انتہائی تکلیف دہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ضروری ہے، بصورت دیگر حالات بہت خراب ہوسکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایک معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ ایران کے لیے صورتحال نہایت سنگین اور بہت تکلیف دہ ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ آئندہ ایک ماہ کے دوران ایران کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے معاملے پر کشیدگی بدستور جاری ہے اور حالیہ دنوں میں اس حوالے سے سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ نے تکلیف دہ ایران کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔