بنگلا دیش میں انتخابات کی نگرانی کیلیے 55 ہزار سے زاید مبصرین
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈ ھاکا (نمائندہ خصوصی) بنگلا دیش میں شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے کے بعد جمعرات کوہونے والے انتخابات کی نگرانی 55 ہزار سے زاید مبصرین سرگرم رہے۔ بنگلا دیشی الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 55 ہزار 454 مبصرین نے 81 مقامی تنظیموں کی جانب سے انتخابات کی نگرانی کی جبکہ غیر ملکی مبصرین کی تعداد 394 ہے۔بتایا گیا کہ انتخابات اور ریفرنڈم کے مشاہدے کے لیے تقریباً 200 غیر ملکی صحافی بھی بنگلا دیش پہنچے ہیں، بین الاقوامی مبصرین میں سے 80 مختلف عالمی تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ باقی مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں آزاد یورپی مبصرین بھی شامل ہیں۔اہم بین الاقوامی تنظیمیں جنہوں نے مبصرین بھیجے ہیں ان میں ایشین نیٹ ورک فار فری الیکشنز، دولت مشترکہ سیکرٹریٹ، امریکا میں قائم انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں، دیگر تنظیموں میں اسلامی تعاون تنظیم ، انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس شامل ہیں۔مبصرین 21 ممالک سے آئے ہیں جن میں پاکستان 8، بھوٹان 2، سری لنکا 11، نیپال 1، انڈونیشیا 3، فلپائن 2، ملائیشیا 6 ، اردن 2 ، ترکی 13، ایران 3، جارجیا 2، روس 2، چین 3، جاپان 4، جنوبی کوریا 2، کرغزستان 2، ازبکستان 2، جنوبی افریقا 2 اور نائجیریا 4 شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شامل ہیں
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،