صوبے کی 889 عمارتیں ہائی رسک قرار، سخت کارروائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ صوبے بھر میں 3,633 عمارتوں کے معائنے کے دوران 889 عمارتیں فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے کے باعث ‘ہائی رسک’ پائی گئی ہیں۔ چیف سیکریٹری نے ہائی رسک عمارتوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی اور غیر تعمیل پر انہیں سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 3,319 عمارتوں کو پہلے ہی نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ چیف سیکریٹری نے ہدایت کی کہ تمام عمارتوں میں فائر الارم اور ایکسٹنگوئشرز کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔