data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: سندھ حکومت نے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں کراچی میں چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھر میں عمارتوں کی حفاظتی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ صوبہ سندھ میں مجموعی طور پر 3,633 عمارتوں کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 3,319 عمارتوں کو فائر سیفٹی خامیوں کے باعث نوٹس جاری کیے گئے، 889 عمارتوں کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے جن میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں یا انتہائی ناقص ہیں، جبکہ دیگر عمارتوں کو میڈیم اور لو رسک کی درجہ بندی میں رکھا گیا ہے۔

چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح ہدایت دی کہ انسانی جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ہائی رسک قرار دی گئی عمارتوں کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں سیل کیا جائے اور مالکان کو قانون کے مطابق اصلاحی اقدامات کرنے کا پابند بنایا جائے، ماضی میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعات کے باوجود حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنا مجرمانہ غفلت ہے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ میڈیم اور لو رسک عمارتوں کے مالکان کو مقررہ مدت دی جائے گی تاکہ وہ فائر الارم سسٹم، ایمرجنسی اخراج راستے، فائر ایکسٹنگوشرز اور دیگر لازمی حفاظتی انتظامات مکمل کریں، مقررہ وقت میں بہتری نہ لانے والی عمارتوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

چیف سیکریٹری نے متعلقہ محکموں، بلدیاتی اداروں اور ریسکیو سروسز کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت مانیٹرنگ نظام مضبوط بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، آئندہ معائنوں کا عمل مزید تیز کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ سانحے سے پہلے خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔

اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں عمارتوں کے حفاظتی معیار کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق بنانے کے لیے مربوط اقدامات جاری رکھے جائیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عمارتوں کے کرتے ہوئے

پڑھیں:

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چوتھے روز بھی اضافہ کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 جولائی کیلیے اضافہ کرتے ہوئے نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔

حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل