Jasarat News:
2026-07-24@05:22:57 GMT

رمضان المبارک سے قبل ٹریفک اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی( اسٹاف رپورٹر ) ڈی آئی جی ٹریفک مظہر نواز شیخ نے رمضان المبارک اور عیدالفطر سے قبل اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دیں ہیں۔ اس فیصلے کے حوالے سے ایک باقاعدہ حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کا مقصد رمضان میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا ہے۔ڈی آئی جی ٹریفک مظہر نواز شیخ کے مطابق رمضان کے دوران افطار کے اوقات سے قبل سڑکوں پر ٹریفک اہلکاروں کی موجودگی ضروری ہو گی تاکہ شہریوں کو ٹریفک کی روانی میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رمضان کے آخری عشرے میں شاپنگ سینٹرز کے باہر گاڑیوں کی پارکنگ کا مسئلہ بڑھ جائے گا، اس لیے اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے بھاری نفری کی ضرورت ہو گی۔مظہر نواز شیخ نے واضح طور پر کہا کہ ایمرجنسی صورت حال کے علاوہ کسی بھی اہلکار کو چھٹی نہیں دی جائے گی اور ہدایات کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو رمضان اور عیدالفطر کے دوران بہتر ٹریفک سروس فراہم کی جا سکے۔یاد رہے کہ یہ فیصلہ شہر میں ٹریفک کی مشکلات کو کم کرنے اور عوام کو عید کی خوشیوں میں بے تکلیف بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر