الخدمت سندھ ریجنل اسٹاف کے لیے استقبال رمضان پروگرام
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے زیر اہتمام قباآڈیٹوریم کراچی میں ریجنل اسٹاف کے لیے استقبالِ رمضان کے سلسلے میں درسِ قرآن کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کا مقصد ماہِ رمضان المبارک کی آمد سے قبل تیاری، احتسابِ نفس اور خدمت خلق کے جذبے کو تازہ کرنا تھا۔اسلامک اسکالر فصیح اللہ حسینی نے رمضان کی فضیلت اور اس میں کرنے کے کام کے حوالے سے درس قرآن پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ مہینہ صبر، تقویٰ، ایثار اور ہمدردی کا عملی درس دیتا ہے۔روزہ انسان کو صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا سبق نہیں دیتا بلکہ نفس کی اصلاح، کردا کی مضبوطی اور معاشرے کے کمزور طبقات کا احساس پیدا کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قرآنِ مجید سے مضبوط تعلق، باقاعدہ تلاوت، تدبر اور عمل ہی رمضان کا اصل پیغام ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الخدمت سے وابستہ کارکنان اور رضاکار اپنی ذمے داریوں کو عبادت سمجھ کر ادا کریں اور دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ اگر ہم رمضان کی برکتوں کو سمیٹنا چاہتے ہیں تو ہمیں اخلاص، دیانت اور نظم و ضبط کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔اس موقع پرصدرالخدمت فاؤنڈیشن سندھ ڈاکٹر سید تبسم جعفری، جنرل سیکرٹری محمد شاہد، اسسٹنٹ سیکرٹری نسیم انصاری، نائب صدر سید محمد یونس اور دیگر ذمے داران بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔