خواتین رمضان کیسے گزاریں ؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں زندگی، ایمان اور صحت کی حالت میں ایک دفعہ پھر رمضان گزارنے کی سعادت عطا کی، جو کہ ہمارے گناہوں کی مغفرت اور جنت کے حصول کے ساتھ ہماری تربیت کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی مہلتِ عمل اس رمضان کی آمد سے پہلے ہی ختم ہوگئی اور وہ زندگی کے سفر کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگئے، جہاں اب اپنے اعمال کے ذریعے مغفرت اور بلندیٔ درجات کا موقع ختم ہوگیا۔ البتہ صدقۂ جاریہ کے کاموں اور اولاد کی دعاؤں کے فیض سے اجر کا ایک راستہ باقی رہ گیا۔
فرضیت و فضیلتِ رمضان
رمضان کی فرضیت، فضیلت اور مقاصد کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے سورۂ البقرہ میں ارشاد فرمایا: ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمھارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمھیں بتایا جا رہا ہے تاکہ روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمھیں سرفراز کیا ہے اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔ اور اے نبیؐ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انھیں بتادو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ (یہ بات تم انھیں سنا دو) شاید کہ وہ راہِ راست پا لیں‘‘ (البقرہ: 185-186)۔
اب جب ہم نے رمضان کو پا لیا تو ہم پر اس ماہ کے تمام روزے رکھنا فرض ہوگئے۔ کتنا رحیم ہے وہ پروردگار جس نے فرضیت کے حکم کے ساتھ ہماری کمزوریوں اور مجبوریوں کا لحاظ رکھتے ہوئے اس میں استثنیٰ بھی عطا فرما دیا، یعنی بیماری یا حالتِ سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت۔ البتہ عذر دور ہونے کے بعد ان روزوں کی تعداد بصورتِ قضا پوری کرنا ہوگی۔ مرض میں رخصت سے مراد کسی قسم کا دائمی مرض بھی ہے جیسے ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور گردوں کے امراض وغیرہ، اور انتہائی شدید مرض جیسے کینسر یا ہیپیٹائٹس و دیگر، یا معمولی تکلیف جیسے بخار ہو جانا اور ڈائریا و ہیضہ وغیرہ ہوجانا۔ نیز خواتین کے لیے حمل کی صورت میں، جب کہ خاتون یا بچے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو، اور رضاعت کے دوران بھی اگر بچے کا محض ماں کے دودھ پر انحصار ہو اور ماں بھوک پیاس برداشت نہ کر پائے تو اسے اس شرعی عذر سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے۔ اگر کسی بھی قسم کا شرعی عذر دور ہو جائے تو ان روزوں کی قضا لازم ہوگی اور ماہانہ مخصوص ایّام میں چھوڑے گئے روزوں کی بھی قضا ہوگی۔ دائمی مرض کی صورت میں فدیہ دینا ہوگا اور وقتی عذر کی صورت میں فدیہ لازم نہیں، لیکن دے دینا افضل ہوگا کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں، کیا معلوم قضا رکھنے کی مہلت ہی نہ ملے۔ یہ تمام آسانیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سبب ہیں جو اپنے احکام کے ذریعے ہمیں تکلیف اور مصیبت میں ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ مغفرت اور اجر عطا کرنا چاہتا ہے۔
رمضان کی فضیلت کی وجہ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک میں قرآن کے نزول کو قرار دیتے ہوئے اس ہدایت عظمیٰ پر شکر گزار ہونے کی تاکید کی ہے۔ دورانِ رمضان ہر روز اپنی نیت کو تازہ کریں، اپنے عزم کو پختہ کریں کہ رمضان کی اہمیت، فضیلت، پیغام اور مقاصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے معمولات کو ترتیب دوں گی اور روزوں کے مقاصد تک پہنچنے کی کوشش کروں گی۔
قرآن مجید سے تعلق
اس ماہ مبارک میں ہمیں جس چیز کا سب سے زیادہ اہتمام کرنا ہے وہ قرآن مجید کی صحبت اور معیّت ہے۔ تلاوت و سماعتِ ترجمہ و تفسیر دورۂ قرآن اور قیام اللیل کے ذریعے قرآن کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنے کی استعداد پیدا کرنا ضروری ہے۔ تلاوت کی مقدار کے حوالے سے تراویح کے ذریعے ایک پارہ روزانہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اگر دورۂ قرآن کی محفل میں شرکت ممکن نہ ہو تو واٹس ایپ پر ترجمہ و تفسیر کے گروپ میں شمولیت اختیار کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ناظرہ قرآن پڑھتے وقت کم از کم ایک رکوع کا ترجمہ ہی سمجھ کر پڑھ لیا جائے اور رفتہ رفتہ ترجمے کو بعد از رمضان مکمل کرلیں۔ اگر کسی جگہ خواتین کی تراویح کا اہتمام ہو تو ضرور شرکت کی کوشش کریں۔ بصورتِ دیگر گھر میں ہی تراویح پڑھیں۔ دیگر اوقات میں بھی فون، کمپیوٹر، ٹیبلٹ وغیرہ پر بہترین قراء حضرات کی تلاوت سنی جا سکتی ہے۔
ذکر و دعاؤں کا اہتمام
آغاز میں بیان کردہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن اور رمضان کے ساتھ دعاؤں کے خصوصی تعلق کا ذکر کیا ہے۔ دعا درحقیقت ذکر ہی کی ایک صورت ہے۔ ذکر کی اگرچہ قلبی، قولی اور عملی صورتیں بھی ہوتی ہیں لیکن رمضان المبارک میں آپ کو چاہیے کہ خصوصی طور پر زبان سے ذکر کا اہتمام کریں۔ کلمۂ شہادت، تیسرا اور چوتھا کلمہ، استغفار کے مختلف کلمات، صبح و شام کے اذکارو دیگر انتہائی توجہ اور یکسوئی سے ادا کریں۔ رمضان کی راتوں میں روزہ افطار کے وقت بلکہ سارا دن ہی توجہ اور یقین کے ساتھ اپنے مسائل، پریشانیوں، نعمتوں کے حصول اور مغفرت کی دعائیں مانگیں۔ اپنے ملک کی فلاح، خوش حالی اور استحکام کے ساتھ امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی دُعا کریں۔ رمضان میں اللہ تعالیٰ عرش کے حامل فرشتوں کو بھی کہتے ہیں کہ وہ دعا کرنے والوں کی دعا پر آمین کہیں۔ اور حدیث مبارکہ میں افطار کے وقت دعاؤں کی قبولیت کو بھی لازم بتایا گیا ہے۔
ڈاکٹر شگفتہ عمر
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اللہ تعالی کا اہتمام روزوں کی رمضان کی کے ذریعے کے ساتھ دعاو ں
پڑھیں:
رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
حافظ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کا چالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔
پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔
دوسری جانب ڈی پی او کامران حمید کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :