زائد وصول کی گئی فیس واپس یا اگلے سال ایڈجسٹ کی جائے گی، پی ایم اینڈ ڈی سی
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں فیس کی حد مقرر کرنے (Fee Capping) کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ بات ایک انٹرایکٹو اجلاس میں کہی گئی، جس کی صدارت پی ایم ڈی سی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کی، جبکہ کونسل کے رجسٹرار ڈاکٹر ریحان اصغر نقوی بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس کے دوران صدر پی ایم ڈی سی نے کونسل کی اہم کامیابیوں اور جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر عوامی دلچسپی کے متعدد امور، جن میں فیس کا ضابطہ، طلبہ کی فلاح و بہبود اور اداروں کی تعمیل (Compliance) شامل ہیں، تفصیل سے زیرِ بحث آئے۔
شرکاء نے پی ایم ڈی سی کی فیس کی حد مقرر کرنے کی پالیسی کو سراہا اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ چند میڈیکل اور ڈینٹل کالج اب بھی سرکاری طور پر منظور شدہ حد سے زیادہ فیس وصول کر رہے ہیں۔
ان خدشات کے جواب میں پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ پی ایم ڈی سی تمام میڈیکل اور ڈینٹل اداروں کی کڑی نگرانی کر رہا ہے تاکہ فیس کی حد مقرر کرنے کی پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے طلبہ کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر امیدوار طالب علم اعلیٰ معیار کی میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم تک رسائی کا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ معیاری طبی تعلیم پاکستان بھر کے تمام طلبہ کا بنیادی حق ہے، چاہے ان کا مالی پس منظر کچھ بھی ہو یا سماجی حیثیت کچھ بھی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایم ڈی سی بارہا عوامی نوٹسز اور آگاہی پیغامات جاری کر چکا ہے جن میں طلبہ اور والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ منظور شدہ حد سے زائد کوئی اضافی فیس ادا نہ کریں۔
انہوں نے بتایا کہ پی ایم ڈی سی نے غیر مطابقت رکھنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے فیس کی حد کی خلاف ورزی کرنے والے 12 میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کو شوکاز نوٹسز جاری کیے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ان میں سے بعض اداروں نے عدالتوں سے رجوع کیا ہے، جس کے باعث معاملہ اس وقت زیرِ سماعت ہے۔
جاری قانونی کارروائی کے باوجود پی ایم ڈی سی کے صدر نے واضح کیا کہ پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل انسٹیٹیوشنز (پی اے ایم آئی) کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا چکا ہے، جس کے تحت کالجز مقدمات واپس لیں گے اور طلبہ کو ریلیف فراہم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پی اے ایم آئی کے ساتھ فالو اپ اجلاس اسی ماہ کے آخر میں شیڈول ہے۔
اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ جو ادارہ فیس کی حد بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 2.
پی ایم ڈی سی نے مزید واضح کیا کہ جن اداروں کو باقاعدہ منظوری نہیں دی گئی، اگر وہ منظور شدہ حد سے زائد فیس وصول کرتے پائے گئے تو انہیں طلبہ کو ریلیف دینا لازمی ہوگا۔ صدر پی ایم ڈی سی کے مطابق، اضافی وصول کی گئی رقم یا تو طلبہ کو واپس کی جائے گی یا اگلے تعلیمی سال کی فیس میں ایڈجسٹ کر دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میڈیکل اور ڈینٹل پی ایم ڈی سی فیس کی حد انہوں نے جائے گی کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔