اپوزیشن عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کرے ‘کسی کو کچھ کہنا ہے تو عدالت عظمیٰ جائے‘ رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کے معاون خصوصی سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کرے کسی کو کچھ کہنا ہے تو عدالت عظمیٰ جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کے اظہار خیال کے جواب میں کیا۔ رانا ثنا اللہ نے ایوان میں جواب دیا کہ عمران خان کی صحت پر بیرسٹر سلمان صفدر نے جو رپورٹ دی ہے اس میں تمام سہولیات کا بتایا گیا ہے، جیل میں ایکسرسائز مشینیں، تین وقت کھانے کی رپورٹ دی گئی ہے، چیف جسٹس نے خود کہا ہے سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، سلمان صفدر کی رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ان کے علاج میں انکار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے جب بھی شکایت کی ان کا علاج کیا گیا، اس معاملے کو سیاسی انداز میں آگے بڑھانا اور کہنا یہ بہت بڑا جرم ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر جیل سپرنٹنڈنٹ یا اس سائیڈ سے کوئی شخص سیاست کرے تو وہ بہت بڑا جرم ہے۔ رانا ثنا نے کہا کہ ان کا ملک میں جو سب سے اچھا علاج ہے وہ کرایا گیا ہے، کینسر اسپتال میں پمز سے اچھا کوئی ڈاکٹر ہے تو اس سے بھی چیک کروایا جاسکتا ہے، عدالت عظمیٰ نے دونوں رپورٹس دیکھ کر کہا ہے انہیں مزید کسی ماہر ڈاکٹر سے چیک کروایا جائے، بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کے ساتھ بیٹھ کر جو بھی بات ہوئی ہے اس پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے کہتا ہوں کہ کسی کی صحت پر آپ کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیے اگر آپ کو اس میں مزید کچھ کہنا ہے تو آپ عدالت عظمیٰ چلے جائیں علامہ راجا ناصر عباس صاحب آپ کو بھی اس معاملے پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت عظمی کی صحت پر
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔