13 فروری ریڈیو کا عالمی دن
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260213-03-4
دنیا بھر میں 13فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد نہ صرف ریڈیو کی اہمیت اور افادیت کو اُجاگر کرنا ہے۔ لفظ ریڈیو، ریڈیائی لہروں سے منسوب ہے۔ ریڈیو ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے آواز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے ریڈیائی لہروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ریڈیو اٹلی کے سائنس دان اور الیکٹریکل انجینئر گوگلیلمو مارکونی کی ایجاد ہے۔ آج کے دور میں تقریباً ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے، موبائل فون رکھنے والے بھی یہ نہیں جانتے کہ ان کے پاس یہ جدید ٹیکنالوجی مارکونی کی مرہون منت ہے۔ 25 اپریل 1874 میں اٹلی کے مشہور شہر بولونیا میں پیدا ہونے والے گوگلیلمو مارکونی کو کم عمری ہی سے بجلی کے تجربات کرنے کا شوق تھا۔ جب وہ بیس برس کا ہوا تو اس نے سائنس دان ’’جیمزکلارک‘‘ کی ایک تحریر پڑھی جس میں جیمز کلارک نے دریافت کردہ وائرلیس لہروں کے بارے میں بتایا تھا۔ اس تحریر کا مارکونی پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے ان لہروں پر تجربات کرنا شروع کردیے دراصل وہ ریڈیائی لہروں یعنی تار کے بغیر ٹیلی گراف پیغام کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے تصور کو حقیقت کا روپ دینا چاہتا تھا۔ جب لوگوں کو اس کے تصورکا علم ہوا تو انہوں نے مارکونی کا تمسخر اڑانا شروع کردیا لیکن مارکونی مسلسل اپنے تجربات میں مصروف رہا اور بالآخر وہ ہوا کی لہروں پر اپنا پیغام دو میل کے فاصلہ تک پہنچانے میں کامیاب ہوگیا۔
جب مارکونی کواپنی نئی ایجاد پر اٹلی میں کوئی خاص پذیرائی اور مدد نہ ملی تو وہ لندن چلا گیا اور وہاں اپنے تجربات کو جاری رکھا جو مزید کامیاب ہوتے گئے اور مارکونی کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ شہرت ملنے پراٹلی کی حکومت نے اسے واپس بلوالیا، مارکونی اپنے وطن واپس آگیا اور حکومت کے تعاون سے وہاں ریڈیائی لہروں کا ایک اسٹیشن قائم کیا۔ پہلی جنگ عظیم میں اس اسٹیشن کے ذریعے بحری جہازوں کا پیغامات بھیجے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1897ء میں مارکونی نے سمندر پار پہلا وائرلیس پیغام بھیجا۔ مارکونی نے مزید تجربات کرکے ریڈیائی لہروں کے ذریعے پیغامات بھیجنے کا فاصلہ بڑھانا شروع کردیا۔ 1901ء میں مارکونی نے پہلا ٹرانزلانٹک ریڈیو سگنل نشر کیا اور وائرلیس پیغام بحراوقیانوس سے پار انگلستان سے کینیڈا بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے ریڈیائی سگنلز نے سمندری سفر کی تنہائی کو ختم کردیا تھا۔ اس نئی ایجاد پر مارکونی کو 1915ء میں نوبیل انعام سے بھی نوازا گیا۔ مارکونی کی ایجاد کی باقاعدہ شکل 1922ء میں سامنے آئی جب انگلینڈ میں ریڈیو براڈ کاسٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔ مارکونی کی تحقیق اور تجربات سے ثابت ہوا کہ وائر لیس کمیونیکیشن بھی ممکن ہے۔ 20 جولائی 1937 کو اٹلی کے شہر روم میں نوبل انعام یافتہ سائنس دان گوگلیلمو مارکونی کی وفات ہوئی تو اس کے انتقال کی خبراسی کے ایجاد کردہ ریڈیو پر دنیا بھر میں سنی گئی۔ ابتدائی تجربات کے بعد 24 دسمبر 1906 کی رات 9 بجے پہلی بار انسانی آواز اور موسیقی پر مبنی ریڈیو نشریات پیش کی گئی۔ جب ریڈیو ایجاد ہوا تھا تو سمجھا جانے لگا کہ اخبار کا مستقبل تاریک ہو گیا اور اب ریڈیو ہی ابلاغ کا واحد ذریعہ ہوگا اور اخبار کی ضرورت باقی نہیں رہے گی مگر ریڈیو کے بعد ٹیلی ویژن میدان میں آگیا اس کے باوجود اخبار کی اہمیت برقرار رہی۔
ذرائع ابلاغ کی دنیا میں روز بروز جدت آ رہی ہے انیسویں صدی میں ایجاد ہونے والے اس بلاغ کی اہمیت آج بھی جوں کی توں ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پوری دنیا میں 85 فی صد مجموعی آبادی ریڈیو سنتی ہے اور اس وقت دنیا بھر میں 51 ہزار سے زائد ریڈیو اسٹیشنز کے ذریعے کروڑوں افراد ریڈیو کی نشریات سے محظوظ ہوتے ہیں۔ موبائل فون کی ایجاد نے ریڈیو کو ایک نئی زندگی بخشی ہے اور موبائل سیٹ میں ایف ایم بینڈ کی سہولت نے ریڈیو کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دیا ہے۔
اب ہر سستے سے سستے موبائل فون میں بھی ایف ایم ریڈیو کی سہولت موجود ہے۔ پاکستان جب وجود میں آیا تو اس وقت صرف تین ریڈیو اسٹیشن ڈھاکا، پشاور اور لاہور پاکستان کے حصے میں آئے۔ اب پاکستان کا کوئی بھی ایسا کونہ نہیں ہے جہاں ریڈیو کی نشریات نہ پہنچتی ہوں اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ریڈیو آج بھی ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا، تیز ترین، موثر اور سستا ذریعہ ہے جہاں ٹیلی ویژن، اخبار یا کسی بھی دوسرے ذریعہ ابلاغ کی پہنچ نہیں وہاں صرف اور صرف ریڈیو ہی کی آواز پہنچتی ہے۔ ریڈیو پاکستان جیسا بڑا نیٹ ورک کسی کے پاس نہیں خواہ وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری۔
1964ء میں جب پاکستان میں ٹیلی ویژن متعارف ہوا تو ریڈیو پاکستان نے اپنے با مقصد میعاری پروگراموں کی بدولت اپنی اہمیت کو کم نہ ہونے دیا اور ریڈیو کا توتی بدستور بولتا رہا، 1965 اور 1971 کی جنگ میں ریڈیو پاکستان کا کردار آج بھی بزرگوں کے ذہنوں میں نقش ہے جب ریڈیو پاکستان نے اپنے فوجی بھائیوں کے جذبے بلند کیے اسی طرح کوئی بھی نا گہانی آفت ہو یا دشمن کے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دینا مقصود ہوا تو ریڈیو پاکستان نے دوسرے قومی اداروں کے شانہ بشانہ قدم بقدم ساتھ دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریڈیائی لہروں ریڈیو پاکستان مارکونی کی موبائل فون مارکونی کو ریڈیو کی کے ذریعے ریڈیو ا ہوا تو
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔