Jasarat News:
2026-06-02@20:42:31 GMT

سندھ اسمبلی: ضمیر کی شکست، مفاد کی جیت

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سندھ اسمبلی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ محض ایک قرارداد کے مسترد ہونے کی خبر نہیں تھا؛ یہ ہمارے سیاسی اور اخلاقی زوال کی ایک علامت تھا۔ ایک ہندو رکن ِ اسمبلی نے شراب پر پابندی کی قرارداد پیش کی، مگر مسلمان اکثریت نے اسے رد کر دیا۔ دلیل دی گئی کہ ’’اس سے ایک بڑا طبقہ محروم ہو جائے گا‘‘۔ یہ جملہ وقتی وضاحت نہیں بلکہ ایک سوچ کا اظہار ہے وہ سوچ جس میں اصول سے زیادہ مفاد، اخلاق سے زیادہ سیاست، اور قانون سے زیادہ ووٹ بینک کو اہمیت دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی فیصلے ’’طبقے‘‘ کی سہولت پر ہوں گے یا معاشرے کی فلاح پر؟ آئین ِ پاکستان کی دفعہ 37 (h) واضح کرتی ہے کہ ریاست نشہ آور اشیاء کے استعمال کی روک تھام کرے گی، سوائے طبی مقاصد کے۔ دفعہ 227 اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ قوانین قرآن و سنت کے منافی نہیں ہوں گے۔ جب آئین خود نشہ آور اشیاء کی حوصلہ شکنی کا تقاضا کرتا ہے تو صوبائی حکومت کا مؤقف کس آئینی بنیاد پر کھڑا ہے؟ اگر فیصلہ آئینی روح کے خلاف ہو تو اسے سیاسی حکمت عملی تو کہا جا سکتا ہے، مگر اخلاقی برتری ہرگز نہیں۔

پاکستان کا قیام اس تصور پر ہوا کہ مسلمان اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں گے۔ قراردادِ مقاصد اسی عہد کی توثیق تھی۔ ایسے میں اگر ایک صوبائی اسمبلی شراب جیسے معاملے پر مفاد کو ترجیح دے تو یہ محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ فکری تضاد ہے۔ یہاں ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ پاکستان خود کو ایک اسلامی جمہوریہ کہتا ہے اور آئین کی تمہید اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ِ اعلیٰ کے اقرار سے شروع ہوتی ہے۔ جب ایک ریاست اپنے وجود کی بنیاد ہی اس اعلان پر رکھتی ہو کہ اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کا ہے، تو پھر اسی ریاست کے قانون ساز ادارے اگر ایسے معاملات میں اللہ کے واضح احکامات سے روگردانی کریں تو یہ یقینا لمحہ فکر ہے۔ شراب کی حرمت کوئی اختلافی یا اجتہادی مسئلہ نہیں کہ جس پر آرا مختلف ہوں۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم واضح ہو، رسول اکرمؐ کی تعلیمات دو ٹوک ہوں، اور آئین بھی نشہ آور اشیاء کی روک تھام کی بات کرے، تو پھر اسمبلی میں ایسی قرارداد کا مسترد ہونا صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ نظریاتی سوال بن جاتا ہے۔ کیا ہماری قانون ساز اسمبلیاں محض عددی اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کریں گی یا اس نظریاتی شناخت کو بھی سامنے رکھیں گی جس کی بنیاد پر یہ ملک قائم ہوا تھا؟ قرآن مجید شراب کو ’’رجس من عمل الشیطان‘‘ قرار دیتا ہے اور اس سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ احادیث میں شراب کے پینے والے ہی نہیں بلکہ اس کی تجارت سے وابستہ ہر فرد پر وعید آئی ہے۔ یہاں معاملہ کسی فرد کے ذاتی عمل کا نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی کا ہے۔ اگر ریاست خود اس کاروبار کو قانونی سہارا دے تو پھر معاشرتی اصلاح کی توقع کیسے کی جائے؟

’’طبقہ محروم ہو جائے گا‘‘ کی منطق خطرناک ہے۔ اگر یہی پیمانہ ہو تو ہر غیر اخلاقی کاروبار کے دفاع میں یہی دلیل دی جا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست کا فرض کس کے ساتھ ہے؟ کسی مخصوص کاروباری طبقے کے ساتھ یا پوری سوسائٹی کے ساتھ؟ اگر کسی سہولت کے نتیجے میں گھریلو تشدد، حادثات، جرائم اور صحت کے مسائل بڑھ رہے ہوں تو ریاست کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اسے محدود کرے، نہ کہ اس کا دفاع کرے۔ سندھ میں شراب کی فروخت کا نظام بظاہر اقلیتوں کے نام پر لائسنس کے ذریعے چلتا ہے، مگر زمینی حقائق اس سے مختلف تصویر دکھاتے ہیں۔ غیر قانونی فروخت، ڈرنک اینڈ ڈرائیو کے واقعات، اور گھریلو تشدد میں اضافہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ محض اعداد نہیں بلکہ ٹوٹتے گھرانوں اور برباد ہوتی نسلوں کی کہانیاں ہیں۔ یہ واقعہ ایک اور پہلو سے بھی قابل ِ غور ہے۔ جس قرارداد کو ایک غیر مسلم رکن نے پیش کیا، اسے مسلمان اکثریت نے مسترد کیا۔ جب اخلاقی سوالات پر خاموشی اختیار کی جائے تو یہ سیاسی نہیں بلکہ فکری بحران ہوتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی خود کو عوامی حقوق کی علمبردار کہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوامی حقوق میں اخلاقی تحفظ شامل نہیں؟ کیا نوجوانوں کو نشے سے بچانا ریاستی ذمے داری نہیں؟ سندھ برسوں سے اسی جماعت کے زیر ِ انتظام ہے۔ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے شعبوں میں سنگین مسائل موجود ہیں۔ ایسے میں اگر شراب جیسے حساس مسئلے پر بھی مفاد کو ترجیح دی جائے تو عوام کے ذہن میں سوال اٹھنا فطری ہے۔ تنقید کا مقصد نفرت نہیں بلکہ احتساب ہے۔ جمہوریت میں کوئی جماعت تنقید سے بالاتر نہیں ہوتی۔ اگر کوئی فیصلہ آئینی اور اخلاقی معیار پر پورا نہ اُترے تو اس پر سوال اٹھانا جمہوری حق بھی ہے اور فریضہ بھی۔

عالمی سطح پر بھی شراب کے نقصانات مسلمہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق شراب نوشی قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ کئی ممالک اس کی فروخت اور استعمال پر سخت قوانین نافذ کرتے ہیں۔ اگر وہ معاشرتی تحفظ کے لیے پابندیاں لگا سکتے ہیں تو ایک اسلامی جمہوریہ میں اس بحث کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا جا سکتا؟ جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے۔ نمائندے وہی فیصلے کرتے ہیں جنہیں وہ سیاسی طور پر محفوظ سمجھتے ہیں۔ اگر عوام اپنے نمائندوں سے سوال کریں اور اصولوں کو ووٹ کی بنیاد بنائیں تو ایوانوں کی ترجیحات بدل سکتی ہیں۔ سندھ اسمبلی کا یہ واقعہ شاید وقتی طور پر ایک خبر بن کر گزر جائے، مگر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیاست جب اخلاقیات سے جدا ہو جائے تو وہ محض مفادات کا کھیل بن جاتی ہے۔ اور جب مفادات اصولوں پر غالب آ جائیں تو معاشرہ آہستہ آہستہ اپنی بنیادیں کھو دیتا ہے۔ اگر ہم نے بطور معاشرہ سنجیدہ مکالمہ شروع نہ کیا تو یہ تضادات بڑھتے جائیں گے۔ سیاست کو مفاد سے نکال کر اصول پر لانا ہوگا، ورنہ ایوانوں کی روشنیوں کے باوجود ہمارے اجتماعی ضمیر پر اندھیرا ہی چھایا رہے گا۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ کی بنیاد

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا