سندھ اسمبلی: ضمیر کی شکست، مفاد کی جیت
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260213-03-3
سندھ اسمبلی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ محض ایک قرارداد کے مسترد ہونے کی خبر نہیں تھا؛ یہ ہمارے سیاسی اور اخلاقی زوال کی ایک علامت تھا۔ ایک ہندو رکن ِ اسمبلی نے شراب پر پابندی کی قرارداد پیش کی، مگر مسلمان اکثریت نے اسے رد کر دیا۔ دلیل دی گئی کہ ’’اس سے ایک بڑا طبقہ محروم ہو جائے گا‘‘۔ یہ جملہ وقتی وضاحت نہیں بلکہ ایک سوچ کا اظہار ہے وہ سوچ جس میں اصول سے زیادہ مفاد، اخلاق سے زیادہ سیاست، اور قانون سے زیادہ ووٹ بینک کو اہمیت دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی فیصلے ’’طبقے‘‘ کی سہولت پر ہوں گے یا معاشرے کی فلاح پر؟ آئین ِ پاکستان کی دفعہ 37 (h) واضح کرتی ہے کہ ریاست نشہ آور اشیاء کے استعمال کی روک تھام کرے گی، سوائے طبی مقاصد کے۔ دفعہ 227 اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ قوانین قرآن و سنت کے منافی نہیں ہوں گے۔ جب آئین خود نشہ آور اشیاء کی حوصلہ شکنی کا تقاضا کرتا ہے تو صوبائی حکومت کا مؤقف کس آئینی بنیاد پر کھڑا ہے؟ اگر فیصلہ آئینی روح کے خلاف ہو تو اسے سیاسی حکمت عملی تو کہا جا سکتا ہے، مگر اخلاقی برتری ہرگز نہیں۔
پاکستان کا قیام اس تصور پر ہوا کہ مسلمان اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں گے۔ قراردادِ مقاصد اسی عہد کی توثیق تھی۔ ایسے میں اگر ایک صوبائی اسمبلی شراب جیسے معاملے پر مفاد کو ترجیح دے تو یہ محض انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ فکری تضاد ہے۔ یہاں ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ پاکستان خود کو ایک اسلامی جمہوریہ کہتا ہے اور آئین کی تمہید اللہ تعالیٰ کی حاکمیت ِ اعلیٰ کے اقرار سے شروع ہوتی ہے۔ جب ایک ریاست اپنے وجود کی بنیاد ہی اس اعلان پر رکھتی ہو کہ اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کا ہے، تو پھر اسی ریاست کے قانون ساز ادارے اگر ایسے معاملات میں اللہ کے واضح احکامات سے روگردانی کریں تو یہ یقینا لمحہ فکر ہے۔ شراب کی حرمت کوئی اختلافی یا اجتہادی مسئلہ نہیں کہ جس پر آرا مختلف ہوں۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم واضح ہو، رسول اکرمؐ کی تعلیمات دو ٹوک ہوں، اور آئین بھی نشہ آور اشیاء کی روک تھام کی بات کرے، تو پھر اسمبلی میں ایسی قرارداد کا مسترد ہونا صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ نظریاتی سوال بن جاتا ہے۔ کیا ہماری قانون ساز اسمبلیاں محض عددی اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کریں گی یا اس نظریاتی شناخت کو بھی سامنے رکھیں گی جس کی بنیاد پر یہ ملک قائم ہوا تھا؟ قرآن مجید شراب کو ’’رجس من عمل الشیطان‘‘ قرار دیتا ہے اور اس سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ احادیث میں شراب کے پینے والے ہی نہیں بلکہ اس کی تجارت سے وابستہ ہر فرد پر وعید آئی ہے۔ یہاں معاملہ کسی فرد کے ذاتی عمل کا نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی کا ہے۔ اگر ریاست خود اس کاروبار کو قانونی سہارا دے تو پھر معاشرتی اصلاح کی توقع کیسے کی جائے؟
’’طبقہ محروم ہو جائے گا‘‘ کی منطق خطرناک ہے۔ اگر یہی پیمانہ ہو تو ہر غیر اخلاقی کاروبار کے دفاع میں یہی دلیل دی جا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست کا فرض کس کے ساتھ ہے؟ کسی مخصوص کاروباری طبقے کے ساتھ یا پوری سوسائٹی کے ساتھ؟ اگر کسی سہولت کے نتیجے میں گھریلو تشدد، حادثات، جرائم اور صحت کے مسائل بڑھ رہے ہوں تو ریاست کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اسے محدود کرے، نہ کہ اس کا دفاع کرے۔ سندھ میں شراب کی فروخت کا نظام بظاہر اقلیتوں کے نام پر لائسنس کے ذریعے چلتا ہے، مگر زمینی حقائق اس سے مختلف تصویر دکھاتے ہیں۔ غیر قانونی فروخت، ڈرنک اینڈ ڈرائیو کے واقعات، اور گھریلو تشدد میں اضافہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ محض اعداد نہیں بلکہ ٹوٹتے گھرانوں اور برباد ہوتی نسلوں کی کہانیاں ہیں۔ یہ واقعہ ایک اور پہلو سے بھی قابل ِ غور ہے۔ جس قرارداد کو ایک غیر مسلم رکن نے پیش کیا، اسے مسلمان اکثریت نے مسترد کیا۔ جب اخلاقی سوالات پر خاموشی اختیار کی جائے تو یہ سیاسی نہیں بلکہ فکری بحران ہوتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی خود کو عوامی حقوق کی علمبردار کہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوامی حقوق میں اخلاقی تحفظ شامل نہیں؟ کیا نوجوانوں کو نشے سے بچانا ریاستی ذمے داری نہیں؟ سندھ برسوں سے اسی جماعت کے زیر ِ انتظام ہے۔ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے شعبوں میں سنگین مسائل موجود ہیں۔ ایسے میں اگر شراب جیسے حساس مسئلے پر بھی مفاد کو ترجیح دی جائے تو عوام کے ذہن میں سوال اٹھنا فطری ہے۔ تنقید کا مقصد نفرت نہیں بلکہ احتساب ہے۔ جمہوریت میں کوئی جماعت تنقید سے بالاتر نہیں ہوتی۔ اگر کوئی فیصلہ آئینی اور اخلاقی معیار پر پورا نہ اُترے تو اس پر سوال اٹھانا جمہوری حق بھی ہے اور فریضہ بھی۔
عالمی سطح پر بھی شراب کے نقصانات مسلمہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق شراب نوشی قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ کئی ممالک اس کی فروخت اور استعمال پر سخت قوانین نافذ کرتے ہیں۔ اگر وہ معاشرتی تحفظ کے لیے پابندیاں لگا سکتے ہیں تو ایک اسلامی جمہوریہ میں اس بحث کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا جا سکتا؟ جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے۔ نمائندے وہی فیصلے کرتے ہیں جنہیں وہ سیاسی طور پر محفوظ سمجھتے ہیں۔ اگر عوام اپنے نمائندوں سے سوال کریں اور اصولوں کو ووٹ کی بنیاد بنائیں تو ایوانوں کی ترجیحات بدل سکتی ہیں۔ سندھ اسمبلی کا یہ واقعہ شاید وقتی طور پر ایک خبر بن کر گزر جائے، مگر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سیاست جب اخلاقیات سے جدا ہو جائے تو وہ محض مفادات کا کھیل بن جاتی ہے۔ اور جب مفادات اصولوں پر غالب آ جائیں تو معاشرہ آہستہ آہستہ اپنی بنیادیں کھو دیتا ہے۔ اگر ہم نے بطور معاشرہ سنجیدہ مکالمہ شروع نہ کیا تو یہ تضادات بڑھتے جائیں گے۔ سیاست کو مفاد سے نکال کر اصول پر لانا ہوگا، ورنہ ایوانوں کی روشنیوں کے باوجود ہمارے اجتماعی ضمیر پر اندھیرا ہی چھایا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس )فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 20ویں قومی ورکشاپ کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، جبکہ امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، انہوں نے دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل سدباب کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلح افواج عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گی۔ فیلڈ مارشل نے دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ اگلی خبرپاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم