data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی شہر احمد آباد میں 12 جون 2025 کو پیش آنے والے ایئر انڈیا طیارہ حادثے کی تحقیقات میں ایک نہایت چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حادثہ کسی تکنیکی خرابی یا مشینی نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر کی گئی کارروائی کا نتیجہ تھا۔بھارتی پائلٹ نے جان بوجھ کر طیارہ گرایا تھا۔تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ پائلٹ نے خود انجن کا فیول سوئچ بند کر دیا تھا، جس کے باعث طیارہ مکمل طور پر بے طاقت ہو گیا اور چند ہی لمحوں میں زمین سے ٹکرا گیا۔اٹلی کے معتبر اخبار Corriere della Sera کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان حالیہ بات چیت سے جڑے دو ذرائع کے مطابق بھارتی تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ حادثہ مکینیکل فیلئر نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیاں اب حتمی رپورٹ کا مسودہ تیار کر رہی ہیں، تاہم سرکاری رپورٹ جاری ہونے سے پہلے کسی قطعی نتیجے پر پہنچنا جلد بازی ہوگی۔ ایئر انڈیا کا بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ احمد آباد ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے چند ہی سیکنڈ بعد قریب واقع ایک میڈیکل کالج کے ہاسٹل پر جا گرا۔ اس دلخراش حادثے میں 260 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں مسافر، طلبہ اور عملے کے افراد شامل تھے۔ اس سانحے میں صرف ایک مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ پایا۔جولائی 2025 میں ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی ابتدائی رپورٹ میں کاک پٹ وائس ریکارڈنگ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ ریکارڈنگ میں ایک پائلٹ دوسرے سے سوال کرتا ہے کہ تم نے فیول کیوں بند کیا؟ جس پر دوسرا جواب دیتا ہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔ تحقیقات کاروں کا ماننا ہے کہ پائلٹس میں سے کسی ایک نے دستی طور پر فیول سوئچ بند کیا، جس سے طیارے کی مکمل پاور ختم ہو گئی اور وہ سیدھا زمین سے ٹکرا گیا۔ اس وقت کپتان سمیت سبروال پائلٹ ان کمانڈ تھے جبکہ کلائیو کندر معاون پائلٹ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کپتان سمیت سبروال اس معاملے میں مرکزی مشتبہ کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ کچھ رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار تھے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رپورٹ میں گیا ہے کہ

پڑھیں:

واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار

اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔

پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔

، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔

دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔

مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم