صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی طارق رحمان اور بی این پی کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اس کے قائد طارق رحمان کو قومی انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے اور نئی حکومت بنانے کا مینڈیٹ ملنے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
صدر زرداری نے بنگلہ دیش کے عوام کو بھی 299 نشستوں پر مشتمل انتخابات کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی، جن میں 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے شرکت کی۔
خودمختاری اور جمہوری امنگوں کی حمایت کا اعادہصدر مملکت نے بنگلہ دیش کی خودمختاری اور جمہوری خواہشات کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نئی حکومت کے ساتھ تجارت، دفاع، ثقافتی تبادلوں اور علاقائی فورمز میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
سارک کے تناظر میں نئی امیدصدر زرداری نے کہا کہ بنگلہ دیش کے انتخابات جنوبی ایشیا کے لیے ایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ ماضی کی ان رکاوٹوں سے آگے بڑھا جائے جن کے باعث علاقائی تعاون، بشمول سارک، متاثر ہوتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فورم 1985 میں بنگلہ دیش میں قائم ہوا تھا، مگر بھارت کی پالیسیوں کے باعث اس کی فعالیت متاثر ہوئی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈھاکہ میں نئی سیاسی فضا خطے میں زیادہ متوازن، خودمختار اور باہمی احترام پر مبنی روابط کو فروغ دے گی۔
صدر آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہشوزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں بنگلہ دیش میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کرنے پر مسٹر طارق رحمان کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
’میں بنگلہ دیش کے عوام کو بھی کامیاب اور پُرامن انداز میں انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ میں بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں تاکہ ہمارے تاریخی اور برادرانہ، کثیرالجہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور اس سے آگے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: میں بنگلہ دیش نے بنگلہ دیش بنگلہ دیش کے کہا کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔