اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے کا اعلان، عمران خان کی طبی سہولیات کا معاملہ بھی زیرِ بحث
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں طے پایا کہ مطالبات کی منظوری تک پرامن احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت دھرنا دے گی، جبکہ تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ کل سے پرامن احتجاجی دھرنا شروع ہوگا اور مطالبات وہیں پیش کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب اڈیالا جیل میں قید عمران خان کو دستیاب سہولیات سے متعلق رپورٹ بھی سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے یا کسی ماہر ڈاکٹر سے طبی معائنہ کروایا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے مطابق اکتوبر 2025 تک ان کی بینائی نارمل (6×6) تھی، تاہم بعد ازاں دائیں آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے سے شدید نقصان پہنچا۔ علاج اور انجیکشن کے باوجود بینائی مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی اور 15 فیصد تک محدود رہ گئی۔ انہوں نے جیل حکام پر شکایات کے ازالے میں مؤثر اقدام نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ ہاؤس
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔