بی این پی کی دو تہائی اکثریت، بنگلادیش کی سیاست میں بڑا موڑ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق Tarique Rahman کی قیادت میں Bangladesh Nationalist Party (بی این پی) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔
اب تک موصولہ نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد نے 299 میں سے 209 نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ بی این پی اکیلے 151 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔ طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق Bangladesh Jamaat-e-Islami اور اس کے اتحادیوں نے 70 نشستیں حاصل کیں۔ جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی، جو جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے، 5 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے کہا کہ امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہوگی تاکہ عوام خود کو محفوظ محسوس کریں۔ انہوں نے خواتین کی فلاح پر خصوصی توجہ دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جن جماعتوں کے ساتھ مل کر تحریک چلائی، انہی کے ساتھ مل کر حکومت بھی چلائی جائے گی۔ انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ جشن یا ریلیوں سے گریز کریں اور خصوصی دعاؤں میں شریک ہوں۔
ادھر جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان نے بعض حلقوں میں نتائج کے اجرا میں تاخیر پر الیکشن کمیشن پر تنقید کی اور کہا کہ سرکاری نتائج کے بعد ردعمل دیا جائے گا، تاہم مخالفت برائے مخالفت نہیں کی جائے گی بلکہ عوامی مفاد میں تعمیری سیاست کی جائے گی۔
دوسری جانب عام انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ڈھاکا سے موصولہ نتائج کے مطابق 73 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ریفرنڈم میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا اور اس کے ذریعے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کے تعین کے لیے تجاویز طلب کی گئی ہیں، جن میں جولائی نیشنل چارٹر کے تحت وسیع آئینی اصلاحات شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بی این پی کے مطابق نتائج کے کے ساتھ
پڑھیں:
دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
اسکردو میں پی پی پی کے جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری(bilawal bhutto zardari) نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں گلگت بلتستان کا دورہ کیا، جی بی کے اضلاع میں جتنا میں آیا ہوں اتنا کوئی اور سیاستدان نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں خامنہ ای کو شہید کیا گیا، ان حالات میں یہاں انتخابی مہم چلانا مناسب نہیں سمجھا۔
پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔ امن کوششیں کامیاب ہونا ضروری ہے، ایران کے ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرنے والی واحد سیاسی جماعت ہے، یہ کیسی معاشی پالیسی اور ترقی ہے کہ امیر، امیر تر ہو۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اسلام آباد کا وہ واحد ادارہ ہے، جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی، بجٹ میں وزیراعظم بی آئی ایس پی کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے۔
مزید پڑھیں: کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
پی پی چیئرمین نے کہا کہ ایٹم بم ذوالفقار بھٹو اور میزائل ٹیکنالوجی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے دی، جی بی کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا، جی بی کو نام صدر زرداری نے دیا۔