خبردار! ہیئر اسٹائلنگ کے دوران زہریلے اجزا سرطان کا سبب بن سکتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بالوں کو گھنا اور دلکش بنانے کے لیے استعمال ہونے والی ہیئر ایکسٹینشنز کے بارے میں نئی سائنسی تحقیق نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب متعدد مصنوعات میں سرطان پیدا کرنے والے اور ہارمونز کو متاثر کرنے والے کیمیکلز موجود ہیں۔
امریکی ریاست میساچوسیٹس کے سائلنٹ اسپرنگ انسٹیٹیوٹ کی تحقیق میں آن لائن فروخت ہونے والی 43 معروف مصنوعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں فلیم ریٹارڈنٹس، فیتھالیٹس، کیڑے مار ادویات، اسٹائرین، ٹیٹراکلوروایتھین اور آرگینو ٹنز جیسے مضر مادوں کے آثار پائے گئے۔
ماضی کی تحقیقات کے مطابق یہ اجزا کینسر، مدافعتی نظام کی کمزوری اور نشوونما کے مسائل سے جڑے ہوئے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر الیسیا فرینکلن کا کہنا ہے کہ صارفین کو اکثر ان کیمیکلز کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں دی جاتی، حالانکہ یہ فائبرز براہ راست سر اور گردن کے قریب ہوتے ہیں۔ جب انہیں گرم کر کے اسٹائل کیا جاتا ہے تو زہریلے اجزا فضا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر کئی معروف شخصیات بھی ہیئر ایکسٹینشنز استعمال کرتی ہیں، جس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خوبصورتی کی خاطر صحت کو خطرے میں ڈالنا دانشمندی نہیں اور صارفین کو مصنوعات کے اجزا جانچنے اور محتاط انتخاب کرنے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔