انسداد دہشتگردی اور باہمی تجارت میں پاکستان کے کلیدی کردارکی دنیا معترف
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)انسدادِ دہشتگردی اور باہمی تجارت کے شعبوں میں پاکستان کے کلیدی کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے مؤثر اقدامات اور لازوال قربانیوں کو مسلسل سراہا گیا ہے، جبکہ مؤثر ملٹری ڈپلومیسی اور متوازن سفارت کاری کے باعث پاکستان عالمی منظرنامے پر ایک قابلِ اعتماد اور اہم شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔
معاون امریکی وزیر خارجہ پال کپور نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ انسدادِ دہشتگردی کے لیے پاکستان خطے میں امریکہ کا انتہائی اہم شراکت دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون اور شراکت داری مسلسل فروغ پا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان توانائی اور زراعت کے شعبوں میں دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ انسدادِ دہشتگردی میں تعاون پاکستان کو داخلی اور سرحد پار سیکیورٹی خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے میں مدد دے رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر Donald Trump اور دیگر اہم امریکی ریاستی عہدیدار بھی دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے مؤثر کردار کا برملا اعتراف کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کے ساتھ ساتھ معاشی، تجارتی اور تکنیکی شعبوں میں بڑھتی ہوئی شراکت داری پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دہشتگردی کے خلاف مربوط کارروائیاں کر کے عالمی سطح پر ایک معتبر مقام حاصل کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دہشتگردی کے خلاف عملی اقدامات اور مختلف شعبوں میں شراکت داری اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں ایک حقیقی نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر کے طور پر ابھر رہا ہے، جو نہ صرف سیکیورٹی بلکہ معاشی اور سفارتی میدان میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
https://dailymumtaz.com/wp-content/uploads/2026/02/us.mp4
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے رہا ہے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی