بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی نے انتخابی نتائج کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی نے قومی انتخابات کے نتائج کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’ انتخابی نتائج کے گرد عمل سے مطمئن نہیں ‘۔
پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ 11 جماعتی اتحاد کے امیدوار مختلف حلقوں میں معمولی اور مشکوک فرق سے ہارے۔ جماعت کے مطابق غیر سرکاری نتائج کے اعلانات میں بار بار تضادات اور مبینہ من گھڑت اعداد و شمار سامنے آئے۔
ٹرن آؤٹ کی شرح جاری نہ کرنے پر اعتراضبیان میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش کی جانب سے ووٹر ٹرن آؤٹ کی شرح جاری نہ کرنے سے بھی شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔
جماعتِ اسلامی نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کے ایک حصے نے مبینہ طور پر ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب جھکاؤ کا مظاہرہ کیا، جس سے نتائج کے عمل کی دیانتداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
کارکنوں کو صبر کی تلقینجماعتِ اسلامی نے اپنے کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں اور 11 جماعتی اتحاد کے آئندہ لائحہ عمل کا انتظار کریں۔ پارٹی نے کہا کہ اتحاد کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکاری پروگرام کے مطابق آئندہ کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔