یہ تحریر پہلی بار 20 نومبر 2023 کو شائع کی گئی تھی۔ فیض احمد فیضؔ کے 115ویں جنم دن پر اس تحریر کو دوبارہ شائع کیا جارہا ہے۔
’’14 دسمبر 1958 کی یخ بستہ صبح تھی جب ایک کالی گاڑی مجھے اسکول سے لیکر گھر پہنچی تھی۔ عجیب منظر دیکھا کہ کچھ اجنبی افراد نے آپ کو پکڑ رکھا تھا، جو آپ کو گرفتار کرنے آئے تھے۔ آپ گزشتہ روز ہی لندن سے لوٹے تھے۔ آپ کو پھر کھو دینے کے خیال سے میں شدید ذہنی صدمے میں تھی، میں چلائی آپ کہاں جارہے ہیں ابو، آپ کب واپس آئیں گے؟ لیکن آپ نے مڑ کر میری کُرلاتی نم آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا۔ بنا کسی وضاحت کے آپ سے دُوری کا دکھ زندگی بھر میرے ساتھ رہے گا۔‘‘
منزہ ہاشمی کے اپنے والد (فیض احمد فیض) کے ساتھ اس مکالمے میں 40 برس کی مسافت حائل ہے۔ منزہ ہاشمی اپنی کتاب (Conversations with my father) کے بارے میں کہتی ہیں ’فیض صاحب نے مجھے بہت سے خط لکھے، وہ ہم سے دور رہے، کبھی جیل میں، کبھی جلا وطنی میں۔ دنیا کے ہر کونے سے خط یا پوسٹ کارڈ بھجواتے تھے۔ اگرچہ فاصلے جذباتی اور جسمانی تھے، لیکن انہیں ہماری سالگرہ سمیت تمام دوسرے اہم دن یاد رہتے تھے۔ ایک بار لکھا تھا ’تمہارا پچپن میں نے مِس کر دیا کہ میں جیل میں تھا۔‘
منزہ ہاشمی کہتی ہیں کہ اب جبکہ میں ریٹائرڈ لائف گزار رہی ہوں۔ جن دنوں کورونا کے باعث گھر میں محصور تھی، فراغت کے ان لمحات میں خطوط میرے ہاتھ لگ گئے اور انہیں پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ کیوں نہ یہ فیض کے پرستاروں سے شیئر کیے جائیں۔ اگرچہ خطوط فیض نے مجھے لکھے لیکن فیض تو سب کے ہیں۔ کچھ کرنے کی ٹھان لوں تو پھر وہ کرکے دم لیتی ہوں، یہ جبلت مجھے والدین سے ورثے میں ملی ہے۔
چھوٹے بیٹے عدیل ہاشمی نے مشورہ دیا کہ محض خطوط شائع کرنے سے کتاب بوریت کا شکار ہو جائے گی، آپ ان خطوط پر اپنا ردعمل دیں اور دل کھول کر رکھ دیں، پھر ایسا ہی ہوا۔ لیکن کچھ سینسر شپ بھی کرنا پڑی۔ 50 کے قریب خط شائع کیے، کچھ بچا لیے۔
’تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں‘9 مارچ 1951 کو فیض صاحب کو راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ چار، ساڑھے 4 برس انتظار، آس اور امید میں گزرے، 20 اپریل 1955 کو انہیں رہائی ملی تھی۔ ماضی کی یاد کے زخم بھرنے لگے تو خطوط کے بہانے انہیں یاد کیا پھر لکھنے بیٹھی تو یادوں کی رَو میں لکھتے چلی گئی۔ اپنا لکھا ہوا دوبارہ نہیں پڑھتی، تاہم میری دوستوں نے اس سلسلے میں میری بہت مدد کی۔
پھر یہ پشیمانی بھی لاحق تھی کہ ذاتی مراسلے شیئر کر رہی ہوں لیکن دوستوں نے حوصلہ بڑھایا کہ فیض بطور والد کیسے تھے؟ وہ آپ اور سلیمہ ہاشمی کے علاوہ اور کون بتا سکتا ہے۔ یوں جو باتیں فیض صاحب سے نہیں کرسکی تھی وہ سب کردیں۔
’جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے‘فیض صاحب کے خطوط، ان کی ٹائم لائن، پھر ان کا 40 برس بعد جواب، جن میں گلے شکوے اور پیار بھرا ہے۔ خطوط کا سیاق و سباق بھی بتانا ضروری تھا۔ خطوط میں جن شخصیات کا ذکر آیا، ان کا تعارف بھی کروایا گیا ہے۔ اس کتاب میں جگ بیتی بھی ہے اور آپ بیتی بھی، آپ اسے کتھارسس بھی کہہ سکتے ہیں، پڑھنے والے اس کتاب کو جو ٹائٹل دینا چاہیں دے دیں۔ اس میں اپنے والد سے کہی ان کہی سب باتیں شامل ہیں، اور یہ بھی کہ مجھے ان سے کیا کیا شکایتیں تھیں۔
40 برس پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر کام کیا، وہاں فیض صاحب پر پابندی تھی اور میں وہاں تھی۔ وہاں ضیاء دور کے 10 گیارہ برس بہت مشکل میں گزارے۔ ’فیض کی بیٹی ہے‘ اس جملے کو لیکر مجھے بہت تنگ کیا گیا۔ ضیاء دور میرے لیے ہی نہیں، پورے ملک کے لیے خوفناک تھا۔
جب بھی کبھی کوئی شکایت کرتی تو لکھتے تھے کہ دفتری سر درد کا تو کوئی علاج نہیں، جہاں تک ہو سکے ’سوئچ آف‘ کرلیا کریں۔ کہتے تھے’ہمارا نسخہ اپناؤ‘ وہ ہم کا صیغہ استعمال کرتے تھے کہ خود کو دنیا کا فرد کہتے تھے۔ ’سوئچ آف‘ کے حوالے سے فیض صاحب کہا کرتے تھے کہ بیروت میں قیام کے دوران جب رات گئے بمباری کی آوازیں آتیں تو روم میٹ خوفزدہ رہتے جبکہ میں منہ پر تکیہ رکھ کر سوجایا کرتا تھا، سوئچ آف کر لیتا تھا۔ یہ آرٹ سب کو سیکھنا چاہیے۔
کتاب کے پیش لفظ میں زہرا نگاہ لکھتی ہیں کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ تمہارے خط فیض صاحب تک ضرور پہنچ گئے ہوں گے۔ اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ بھی آتی ہوگی۔‘ اور پھر انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’ہمارے جانے کے بعد ہماری میزو واقعی بڑی ہوگئی ہے۔ اب تو اسے سوئچ Off کرنا اور on کرنا بھی آگیا ہے۔‘ پھر انہوں نے سگریٹ بجھا دیا ہوگا۔ معلوم نہیں جنت میں سگریٹ کی اجازت ہے کہ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر نہیں ہے تو ہوسکتا ہے انہیں اسپیشل پرمیشن مل گئی ہو۔‘
یہ فیض صاحب کی وہ زندگی ہے جو دنیا نے نہیں دیکھی، میں نے وہ سب کچھ کرنے کی کوشش کی جو فیض کرنا چاہتے تھے، ان کے فٹ پرنٹ فالو کیے ہیں۔ میں کہاں کہاں نہیں گئی؟ جب وہ جیل میں تھے، میں 8 برس کی تھی، میں ساہیوال جیل بھی گئی جہاں وہ اسیر رہے۔ میں نے حضرت امام حسینؑ کے روضے پر جا کر فیض صاحب کا سلام بھی پڑھا۔
فیض کے تمام خطوط اردو میں ہیں جبکہ منزہ ہاشمی نے ان کا جواب اپنی مادری زبان، انگریزی میں دیا ہے۔ کہتی ہیں ’مجھے دادی اور پھوپھو نے پنجابی سکھائی تھی۔ فیض شاید اس لیے اردو لکھتے تھے کہ میں مادری زبان کے ساتھ ساتھ اردو پر بھی توجہ دوں۔ کیوں کہ گھر میں انگریزی زیادہ بولی جاتی تھی۔ والد صاحب کچھ بھی لکھتے تھے تو ماں کو انگریزی میں سمجھاتے تھے۔ اب دوستوں اور پرستاروں کی پرزور فرمائش پر کتاب کا اردو ترجمہ بھی جلد آ جائے گا۔
’ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے‘میرے دو بیٹے ہیں۔ بڑا بیٹا علی مدیح ہاشمی ڈاکٹر ہے، ماہر نفسیات ہے، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں پروفیسر ہے۔ امریکا اور پاکستان میں پرائیویٹ پریکٹس بھی کر رہا ہے۔ لاہور کے مینٹل اسپتال کا سی ای او بھی ہے۔ بہت اچھا لکھاری ہے، 2 کتابوں کے تراجم کیے ہیں اور اپنے نانا (فیض احمد فیض) کی سوانح عمری (Love and Revolution) بھی انگریزی میں لکھی جو فیض پر لکھے جانے والی بہترین اور مستند کتاب ہے۔
چھوٹا بیٹا عدیل ہاشمی آرٹ اور میڈیا سے وابستہ ہے، فیض فاؤنڈیشن کا سیکریٹری جنرل بھی ہے۔ اپنے نانا کے پیغام کو آگے بڑھا رہا ہے۔ بہت اچھی شاعری کر رہا ہے۔ اس حوالے سے زہرا نگاہ، یاسمین حمید اور ڈاکٹر عارفہ سیدہ سے مشورے لے رہا ہے۔
’اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘زندگی میں پیسے صرف فیض صاحب سے مانگے۔ ایک خط میں انہوں نے لکھا کہ پیسے بھیجنے میں تاخیر کے باعث سود کے ساتھ لوٹا رہا ہوں، ماں کو مت بتانا۔ پیسے ابو سے ہی مانگنے تھے، ماں کے پاس تو ہوتے نہیں تھے۔ ایک خط میں لکھا کہ ’اگر تمہیں ہاسٹل کا کھانا پسند نہیں تو ہوٹل سے منگوا لیا کرو، اپنی ماں کی طرح پیسوں کی فکر مت کیا کرو۔‘ اب بھی جب کبھی پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ جانے کیسے انتظام ہوجاتا ہے، ان کی رائلٹی کے پیسے آ جاتے ہیں۔
میری والدہ سمیت کبھی کسی نے نہیں کہا کہ انہوں نے اونچی آواز میں بھی بات کی ہو، گالی تو دور کی بات وہ زیادہ سے زیادہ یہ کہتے تھے وہ بڑا ’پاجی‘ ہے۔ وہ میرے خط محفوظ نہیں رکھ پائے، اس لیے کہ وہ زیادہ سفر میں ہی رہے۔
ایک بار میں نے انہیں لکھا کہ آپ بہت دور ہیں میرا دل کرتا ہے کہ آپ کی خدمت کروں، تو انہوں نے جواب دیا کہ خدمت کی ضرورت تو شاید جب پڑے گی، اگر اور دس 20 برس جینا پڑا اور ہاتھ پاؤں جواب دے گئے، پھر ہم گاؤں چلے جائیں گے، جہاں مراثی حقہ تازہ کرے گا اور مراثن پاؤں دبایا کرے گی۔
’مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں‘فیض احمد فیض کی ادبی خدمات کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ 1962 میں سوویت یونین نے انہیں لینن امن انعام دیا تھا۔ 1976 میں ادب کے لوٹس ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ 1990 میں حکومت پاکستان نے ’نشان امتیاز‘ سے نوازا۔ جبکہ ان کے صد سالہ یوم پیدائش پر 2011 کو ’فیض کا سال‘ قرار دیا گیا تھا۔
فیض کی تصانیف میں نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ، سر وادیٔ سینا، شام شہر یاراں اور میرے دل مرے مسافر کے علاوہ نثر میں میزان، صلیبیں مرے دریچے میں اور متاع لوح و قلم شامل ہیں۔ انہوں نے 3 فلموں ’قسم اس وقت کی‘۔ ’جاگو ہوا سویرا‘ اور ’دور ہے سُکھ کا گاؤں‘ کے لیے گیت بھی لکھے تھے۔
فیض 13 فروری 1911 کو پنجاب کے ضلع نارووال کی اک چھوٹی سی بستی کالا قادر (اب فیض نگر) کے علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1984 میں انہیں ادب کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن انعام کا فیصلہ ہونے سے قبل ہی 20 نومبر 1984 کو ان کا انتقال ہوگیا تھا۔
پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں
راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار
اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایلس فیض دست تہہ سنگ دست صبا زندان نامہ ساہیوال جیل سلیمہ ہاشمی عدیل ہاشمی علی مدیح ہاشمی فیض فیض احمد فیض مشکورعلی منزہ ہاشمی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایلس فیض دست تہہ سنگ سلیمہ ہاشمی عدیل ہاشمی علی مدیح ہاشمی فیض فیض احمد فیض مشکورعلی منزہ ہاشمی وی نیوز فیض احمد فیض منزہ ہاشمی فیض صاحب انہوں نے گیا تھا کیا گیا کہ میں فیض کی کے لیے تھے کہ رہا ہے
پڑھیں:
گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔
سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔
حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔
یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی
یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔
یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں