data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا میں عام انتخابات کے ساتھ منعقد ہونے والے قومی ریفرنڈم میں اکثریت نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دے دیا۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق 67 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کی حمایت کی جبکہ 33 فیصد نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

یہ ریفرنڈم بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ کرایا گیا۔ انتخابات جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کا طویل اقتدار اختتام پذیر ہوا تھا۔

ریفرنڈم میں عوام سے ایک سوال پوچھا گیا جس کا جواب ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ میں دینا تھا، اور اسی کے ذریعے مجوزہ آئینی اصلاحات پر عوامی رائے لی گئی۔ یہ اصلاحات ’جولائی نیشنل چارٹر‘ کا حصہ ہیں، جسے 2024 کی تحریک کے مطالبات کو قانونی شکل دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

مسودہ ’نیشنل کنسنسس کمیشن‘ نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا، تاہم عوامی لیگ اس عمل میں شامل نہیں تھی۔

مجوزہ اصلاحات میں پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانے، ایوانِ بالا (سینیٹ) کے قیام، آئینی ترامیم کے لیے سینیٹ کی منظوری لازمی قرار دینے، وزیر اعظم کی مدت کی حد مقرر کرنے اور صدر کے اختیارات میں اضافے جیسی تجاویز شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد اختیارات کے ارتکاز کو روکنا اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔

حتمی نتائج کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے بعد میں کیا جائے گا، تاہم ابتدائی نتائج کو بنگلادیش کی سیاسی تاریخ میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

فوٹو: فائل

کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی