پرتگال میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر نئی پابندیاں منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پرتگال کی پارلیمنٹ نے پہلے مرحلے میں ایک بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت 13 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کرنے سے قبل والدین کی واضح اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یورپ میں اس نوعیت کی پابندی عائد کرنے کی یہ ابتدائی قانون سازی میں سے ایک ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق حکمراں جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (پی ایس ڈی) کی جانب سے پیش کیے گئے مسودہ قانون کے مطابق یہ اقدام بچوں کو سائبر بُلنگ، نقصان دہ مواد اور استحصالی عناصر سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
والدین کی رضامندی کے لیے ’ڈیجیٹل موبائل کی‘(ڈی ایم کے) نامی سرکاری نظام استعمال کیا جائے گا، جو 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ڈیجیٹل سوشل میڈیا، ویڈیو اور تصویر شیئرنگ پلیٹ فارمز یا آن لائن بیٹنگ ویب سائٹس تک رسائی پر پہلے سے عائد پابندی پر عمل درآمد میں بھی مدد دے گا۔
ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ڈی ایم کے سے ہم آہنگ عمر کی تصدیق کا نظام نافذ کرنا بھی لازمی ہوگا۔ یہ بل 148 کے مقابلے میں 69 ووٹوں سے منظور ہوا جبکہ 13 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ حتمی ووٹنگ سے قبل اس میں مزید ترامیم کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ ماہ فرانس کے ایوانِ زیریں نے بھی 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی قانون سازی کی حمایت کی تھی، جہاں آن لائن بُلنگ اور ذہنی صحت سے متعلق خطرات پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اسی طرح آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول ٹک ٹاک، اسنیپ چاٹ، فیس بک اور یوٹیوب کے استعمال پر دنیا کی پہلی پابندی دسمبر میں نافذ ہو چکی ہے۔
پرتگالی بل میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون اس ریگولیٹری خلا کو پُر کرے گا جس کے باعث ’کثیرالقومی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو یکطرفہ طور پر قواعد طے کرنے‘ کا اختیار ملا ہوا تھا، جس کے اثرات بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر مرتب ہو رہے ہیں، خاص طور پر کم عمری یا ضرورت سے زیادہ استعمال کی صورت میں۔
بل میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں سوشل میڈیا نے وہ کردار سنبھال لیا ہے جو طویل عرصے تک خاندانوں اور اسکولوں کے پاس تھا، تاہم اس پر کوئی ضابطہ موجود نہیں تھا۔
رائے شماری سے قبل پی ایس ڈی کے رکن پارلیمنٹ Paulo Marcelo نے کہا کہ ہمیں اپنے بچوں کا تحفظ کرنا ہے۔ ہمارا مقصد محض پابندی لگانا نہیں بلکہ ایسا ضابطہ بنانا ہے جو والدین اور خاندانوں کو زیادہ اختیار دے تاکہ وہ نگرانی اور کنٹرول کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کو نظرانداز کرنے والی ٹیک کمپنیوں کو ان کی عالمی آمدن کا دو فیصد تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا بچوں کے کے لیے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔