بنگلہ دیش الیکشن: بی این پی اتحاد نے دو تہائی اکثریت سے میدان مار لیا، جماعت اسلامی نے ہار مان لی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ڈھاکہ(ویب ڈیسک) بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ملک میں منعقد ہونے والے 13 ویں عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے طارق رحمان کو مبارکباد دے دی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بنگالی نیوز چینل جامونا ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو انتخابات میں بڑی اکثریت مل گئی ہے، اب تک غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد کو300 نشستوں میں سے 212 نشستوں پر کامیابی مل چکی ہے جبکہ جماعت اسلامی اتحاد کو 70 نشستوں پر فتح نصیب ہوئی ہے۔
اسی طرح نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ سیٹیں جیت پائی ہے، ووٹوں کی گنتی اب تک جاری ہے، ٹرن آؤٹ 60 فیصد رہا۔
بنگلہ دیش کے لوگوں کی صبح کا آغاز اس خبر سے ہوا ہے کہ بی این پی برتری حاصل کر رہی ہے اور اگلی حکومت بنانے کے قریب ہے، بنگلہ دیشی اخبارات نے پہلے ہی بی این پی کی فتح کے امکانات ظاہر کر دیے ہیں، اب بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ بی این پی کے رہنما طارق رحمان ملک کے اگلے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔
چیئرمین بی این پی طارق رحمان دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے، امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمان بھی اپنی نشست جیت گئے، اتحادی طالبعلم رہنما ناہید اسلام نے ریکارڈ ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی۔
انتخابات میں 7 خواتین بھی منتخب ہو ہو گئیں، افروزاں خان،عشرت سلطانہ، تاشینہ رشدیر، شمع عبیدی، نایاب وسف کمال اور فرزانہ شرمینہ بی این پی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئیں جبکہ بیرسٹر رحمینہ فرحان نے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔
بھارت میں پناہ گیر شیخ حسینہ نے انتخابات کو ڈھونگ قرار دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی بنگلہ دیشی عوام کو مبارکباد
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی عوام اور حکومت پاکستان کی جانب سے طارق رحمان کو بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دے دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام کو انتخابات کے کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہوں تاکہ اپنے تاریخی، برادرانہ اور ہمہ جہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔
سرکاری نتائج
سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی نے اب تک 100 نشستیں حاصل کر لی ہیں، یعنی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے صرف 51 نشستیں کم ہیں۔
حتمی نتائج ابھی آنے ہیں، لیکن پارٹی نے فتح کا دعویٰ کر دیا ہے اور مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
دوسری جانب اسلام پسند جماعت جماعتِ اسلامی 40 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
امن عامہ پہلی ترجیح ہے: طارق رحمان
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نےکہا کہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے۔
طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے نماز جمعہ میں خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے، بیان میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور دوسری عبادت گاہوں میں جا کر خدا کا شکر ادا کریں۔
ادھر چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا کہ آئینی حق ادا کرنے میں عوام نے بھرپورحصہ لیا۔
شکست تسلیم کرتے ہیں: شفیق الرحمان
بی این پی کی سب سے بڑی حریف جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنی شکست کو تسلیم کرتی ہے اور وہ ’مخالفت کی سیاست‘ کے بجائے ’مثبت سیاست کے تحت‘ آگے بڑھے گی۔
کوئی پوشیدہ ایجنڈا نہیں: چیف الیکشن کمشنر
بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمیشنر ای ایم ایم ناصرالدین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے، ٹی وی یا دیگر نجی ذرائع پر جاری کیے جانے والے اعداد و شمار سرکاری یا حتمی نتائج نہیں ہیں اور صرف وہ نتائج قانونی حیثیت رکھتے ہیں جو ریٹرننگ آفیسرز کی دستخط شدہ گزٹ میں شائع ہوں۔
انہوں نے عوام اور میڈیا کو یقین دلایا کہ کوئی پوشیدہ ایجنڈا یا ہیر پھیر نہیں ہے اور تمام مراحل شفاف طور پر مکمل کیے گئے ہیں۔
ڈھاکہ میں ای سی آفس آگراگون میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے غیر سرکاری نتائج کے اعلان کی تقریب کے دوران ناصرالدین نے کہا کہ عوام دیکھیں، میڈیا دیکھے، ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی جان لے کہ یہاں کچھ چھپانے کو نہیں ہے، ہم نے مکمل شفاف انتخابات کرانے کی کوشش کی ہے۔
امریکی سفیر کی بی این پی کو مبارکباد
بنگلہ دیش میں تعینات امریکی سفیر نے بی این پی اور اس کے رہنما طارق رحمان کو کامیاب انتخابات اور تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے اپنے پیغام میں لکھا کہ امریکہ دونوں ممالک کی خوشحالی اور سلامتی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔
یاد رہے کہ سرکاری نتائج ابھی جاری نہیں ہوئے، تاہم مقامی میڈیا نے بی این پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کی پیش گوئی کی ہے۔
عالمی مبصرین کا خیال اس الیکشن کے بعد ملک کی صورت حال میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی رکھنے والے اسلامی ملک پر قریباً 15 برس تک شیخ حسینہ واجد کی جماعت کی حکومت رہی جس سے عوام کو کافی شکایات بھی رہیں اور اس کے نتیجے میں اگست 2024 میں شدید احتجاجی لہر اٹھی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرکاری نتائج انتخابات میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے بی این پی کی شہباز شریف اکثریت سے نے کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی