نئی زبانیں سیکھنا ثقافتوں کو سمجھنے کے دروازے کھولتا ہے، یونان کی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
نئی زبانیں سیکھنا ثقافتوں کو سمجھنے کے دروازے کھولتا ہے، یونان کی سفیر WhatsAppFacebookTwitter 0 13 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) یونان کی سفیر ایلینی پوریچی نے کہا کہ نئی زبانیں سیکھنا ثقافتوں کو سمجھنے اور دیرپا عالمی روابط قائم کرنے کے دروازے کھولتا ہے۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقدہ انٹرنیشنل یونانی زبان ڈے مقابلے سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نے پُرجوش انداز میں طلبہ کو یونانی زبان کی دولت میں غوطہ زن ہونے، اس کی قدیم تاریخ کو دریافت کرنے اور یونان میں دستیاب دلچسپ تعلیمی مواقع پر غور کرنے کی ترغیب دی۔
انہوں نے طلبہ کی پُرجوش شرکت کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے ثقافتی اور تعلیمی تبادلے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خصوصاً یونان اور پاکستان جیسے دو قدیم اور باوقار تہذیبوں کے حامل ممالک کے درمیان۔
یہ اہم تقریب روٹس انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز نے اسلام آباد کے ویلنگٹن کیمپس میں یونان کے سفارت خانے کے اشتراک سے منعقد کی۔ مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بڑی تعداد میں شریک ہوئے تاکہ یونانی زبان کے مرکز میں ہونے والے اس پروگرام کے ذریعے سیکھنے، مکالمے اور ثقافتی تبادلے کا جشن منایا جا سکے۔
خطاب کرتے ہوئے سفیر پوریچی نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام نوجوانوں کو اپنی سرحدوں سے آگے دیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “زبان سیکھنا صرف الفاظ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ لوگوں، روایات اور کسی قوم کی روح کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔”
انہوں نے زبان کو ثقافتوں کے درمیان ایک پل قرار دیتے ہوئے پاکستانی طلبہ کی جانب سے یونانی زبان میں غیر معمولی دلچسپی کو سراہا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یونان کا انتخاب کرنے پر بھی غور کریں۔ ان کے مطابق یونانی جامعات عالمی معیار کے تعلیمی پروگرام پیش کرتی ہیں اور ساتھ ہی ایک متحرک اور تاریخی ثقافتی ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
اپنے اختتامی کلمات میں سفیر نے روٹس انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز اور دیگر شراکت دار اداروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس تقریب کو کامیاب بنایا اور پاکستان میں یونانی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کیا۔
روٹس انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز کے سی ای او ولید مشتاق نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ اس طرح کے مقابلے طلبہ میں تجسس پیدا کرتے ہیں اور انہیں عالمی ثقافتوں اور زبانوں سے روشناس کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونانی سفارت خانے، میٹروپولیٹن یونیورسٹی کالج اور دیگر تعلیمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
مشتاق نے مزید کہا کہ یہ شراکت داریاں تعلیمی نظام کو مضبوط بناتی ہیں اور طلبہ کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے تیار کرتی ہیں۔ انہوں نے اس تقریب کو پاکستان اور یونان کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ غیر ملکی زبانیں سیکھنا طلبہ کو مستقبل میں بین الاقوامی تعاون کے لیے درکار مہارتیں فراہم کرتا ہے۔
“کمپیٹ۔ کنورس۔ سیلیبریٹ گریک” کے پُرجوش عنوان کے تحت منعقد ہونے والے اس مقابلے میں زبان سے متعلق دلچسپ سرگرمیوں اور یونانی و پاکستانی روایات پر مبنی رنگا رنگ ثقافتی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اقدار اور باہمی احترام کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب میں یونانی زبان کی عالمی اہمیت کو بھی نمایاں کیا گیا۔ یونیسکو کے ایک فیصلے کے بعد، جس میں عالمی ثقافت کے لیے یونانی زبان کی تاریخی خدمات کو تسلیم کیا گیا، 9 فروری کو کثیر لسانیت اور ثقافتی تنوع کے فروغ کے لیے باقاعدہ طور پر عالمی یومِ یونانی زبان قرار دیا گیا ہے۔
تقریب کا اختتام اس وقت ہوا جب سفیر پوریچی نے شریک طلبہ میں ٹیبلٹس تقسیم کیے اور ان کی محنت اور جذبے کو سراہا۔ منتظمین کے مطابق اس اقدام کا مقصد یونانی ثقافت سے آگاہی پیدا کرنا اور پاکستانی نوجوانوں کو اپنی زبان سے آگے بڑھ کر دیگر زبانیں سیکھنے کی ترغیب دینا تھا تاکہ سیکھنے اور عالمی ہم آہنگی کے نئے افق روشن ہوں۔
اسلام آباد میں منعقدہ یہ مقابلہ اپنی پُررونق فضا اور بین الاقوامی جذبے کے ساتھ محض ایک تعلیمی تقریب نہیں تھا بلکہ دوستی، ثقافت اور زبان کی وحدت بخش طاقت کا حقیقی جشن ثابت ہوا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراقوامِ متحدہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کی پروقار تقریب: ’پاکولی‘ کے وفد کی بھرپور شرکت اور پاکستانی کمیونٹی کی نمائندگی اقوامِ متحدہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کی پروقار تقریب: ’پاکولی‘ کے وفد کی بھرپور شرکت اور پاکستانی کمیونٹی کی نمائندگی عوام پاکستان پارٹی کے سینئررہنما سید زعیم حسین قادری انتقال کر گئے یو اے ای نے پاکستان کی قرض واپسی کی مدت میں مزید 2 ماہ کی توسیع کردی عمران خان کی بینائی متاثر ہونے کی خبریں پریشان کن ہیں، انکے اہلخانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے، خواجہ سعد رفیق افغانستان اپنی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے استعمال سے روکے: عاصم افتخار بنگلادیش انتخابات: بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ 209 نشستیں جیتنے میں کامیاب، جماعت اسلامی اتحاد 68 سیٹوں تک محدودCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: زبانیں سیکھنا کو سمجھنے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔