ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاک بھارت میچ سے قبل جہاز اور ہوٹل کے کرایوں میں ہوشربا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے کولمبو میں شیڈول پاک بھارت میچ سے قبل جہاز اور ہوٹل کے کرایوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔
ٹریول پلیٹ فارمز کے مطابق فلائٹ بکنگ میں تقریباً 65 فیصد جبکہ ہوٹل ریزرویشن میں 50 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ممبئی سے کولمبو کے ریٹرن ٹکٹ کی قیمت تقریباً بھارتی 60 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ہوٹل انڈسٹری بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔ کئی شہروں میں ہوٹلوں کی گنجائش تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور 13 سے 16 فروری کے درمیان کمروں کے ایک رات کے نرخ ایک لاکھ بھارتی روپے سے زائد تک ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ سری لنکا کے محکمہ موسمیات نے 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول پاک بھارت میچ کے دوران بارش کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔