پی ایس ایل آکشن میں عمر اکمل کو شامل نہ کرنے پر کامران اکمل پی سی بی سے ناراض
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
سابق قومی کھلاڑی کامران اکمل نے پی سی بی سے اظہارِ ناراضی کرتے ہوئے پاکستان سپر لیگ آکشن میں عمر اکمل کو شامل نہ کرنے پر اعتراض کر دیا۔
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026ء کا انعقاد مارچ سے مئی تک نئے اور توسیع شدہ فارمیٹ کے تحت کیا جا رہا ہے، اس سال پہلی مرتبہ لیگ میں روایتی ڈرافٹ سسٹم کے بجائے پلیئر آکشن ماڈل متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت کھلاڑیوں کی نیلامی کی گئی، تاہم اس عمل کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو تنقید کا سامنا ہے۔
حال ہی میں سابق قومی وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل نے اپنے بھائی عمر اکمل کو پی ایس ایل آکشن کے لیے زیرِ غور نہ لانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کامران اکمل نے کہا کہ میں محض سلیکشن کی بات نہیں کر رہا بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عمر اکمل کا نام آکشن فہرست میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سلیکشن بعد کی بات ہے، پہلے تو عمر اکمل کو آکشن کے لائق ہی نہیں سمجھا گیا، جو کہ ایک کھلاڑی کے ساتھ ناانصافی ہے، اسے موقع ہی نہیں دیا گیا۔
سابق کرکٹر باسط علی نے بھی عمر اکمل کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت مڈل آرڈر بلے باز ہیں اور انہیں ضرور موقع ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے سلیکشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آکشن کے لیے ناموں کے تعین میں شفافیت ہونی چاہیے۔
کامران اکمل نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ غیر منصفانہ نظام ہے، کیوں عمر اکمل کا نام آکشن میں شامل نہیں کیا گیا؟
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض کم تجربہ کار یا طویل عرصے سے غیر فعال کھلاڑیوں کو آکشن میں شامل کیا گیا، جبکہ عمر اکمل کو نظر انداز کر دیا گیا۔
تاحال پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کامران اکمل نے عمر اکمل کو کرتے ہوئے کیا گیا کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔