نادرا کا شناخت کی تصدیق کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام متعارف
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نادرا نے شناخت کی تصدیق کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان میں اگر کوئی شہری بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے اور رقم جمع کروانے آئے تو بینک نادرا سے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فراہم کی گئی شناختی دستاویزات واقعی اسی شخص کی ہیں یا نہیں۔
پاکستان میں شناخت کی تصدیق کی ضرورت بڑھ رہی ہے اور اسی کے ساتھ نادرا پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہ روزانہ کوئی نہ کوئی ادارہ بائیومیٹرک سہولیات سمیت شناخت کی تصدیق کا مطالبہ لے کر آتا ہے۔
کرینہ اور سیف کے ہاں تیسرے مہمان کی آمد؟ تصاویر وائرل
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر اب نادرا نے تمام سرکاری اور نجی ریگولیٹڈ اداروں کے لیے نشانِ پاکستان کے نام سے شناخت کی تصدیق کا نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کروا دیا ہے، اس نظام کے تحت مذکورہ ادارے اپنے پاس آنے والے شہریوں کی شناختی دستاویزات کی تصدیق، رجسٹریشن، سبسکرپشن اور دیگر سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔
نادرا کے مطابق نشانِ پاکستان ایک جامع ویب پورٹل ہے جس کے ذریعے سرکاری اداروں اور ریگولیٹڈ نجی شعبے کو رجسٹریشن، سبسکرپشن اور شناخت کی تصدیق کی تمام سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر آن لائن فراہم کی جائیں گی۔
شیخوپورہ: 2 پولیس اہلکاروں کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا
نادرا نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس سے قبل آن بورڈنگ کے لیے طویل دستاویزی کارروائی اور بار بار منظوری کے مراحل کے باعث تاخیر اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں، تاہم نئے نظام سے یہ عمل تیز، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے گا۔
اس پورٹل کے ذریعے بینکوں، مائیکروفنانس اداروں، نان بینکنگ فنانشل انسٹیٹیوشنز، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اور دیگر ریگولیٹڈ اداروں کو نادرا کی مختلف خدمات تک آسان رسائی حاصل ہو گی، جس میں رجسٹرڈ اداروں کے لیے ملٹی بائیومیٹرک ویریفیکیشن، فنگر پرنٹس، پروف آف لائف اور سنگل سائن آن (ایس ایس او) جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
آسٹریلیا میں بھی رمضان المبارک کے آغاز کی تاریخ کا اعلان کر دیا
نادرا کے مطابق اس اقدام سے شناخت کی تصدیق کا عمل زیادہ محفوظ، مؤثر اور قانونی تقاضوں کے مطابق بنایا گیا ہے، اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ خدمات کی فوری فراہمی ممکن ہو گی، یہ اقدامات حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ (ڈیپ) اور فیٹف کے ضوابط کے تحت کیے جا رہے ہیں، تاکہ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل خدمات میں شفافیت اور سکیورٹی کو فروغ دیا جا سکے۔
نادرا کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری اور ریگولیٹڈ نجی اداروں کو صرف شہریوں کی شناخت کی تصدیق تک رسائی دی گئی ہے، اور نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ ادارے خودکار طور پر ڈیٹا اپنے پاس محفوظ نہیں رکھ سکیں گے، اس نظام کے تحت اب پاکستان کے مختلف سرکاری اور نجی بینک، مائیکروفنانس ادارے جیسے ایزی پیسہ، جیز کیش، ریگولیٹڈ آن لائن بزنسز اور دیگر ادارے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
خضدار کے قریب زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شناخت کی تصدیق کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔