حنا آفریدی والدہ کو یاد کر کے آبدیدہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
پاکستانی ماڈل اور اداکارہ حنا آفریدی نے حالیہ پوڈکاسٹ میں اپنی مرحومہ والدہ کو یاد کرتے ہوئے جذباتی گفتگو کی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
حنا آفریدی کو ڈرامہ سیریلز پہلی سی محبت، اکھاڑہ، کچھا دھاگا اور راجہ رانی سے شہرت ملی، جبکہ اس وقت وہ مقبول ڈرامے ’غلام باشاہ سندری‘ میں اپنی اداکاری پر داد وصول کر رہی ہیں، حال ہی میں تیمور اکبر کے ساتھ ان کی شادی بھی سوشل میڈیا پر خاصی زیرِ بحث رہی۔
اداکارہ نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری امی کے انتقال کے بعد خود کو سنبھالنا بہت مشکل تھا، ماں کو کوئی بھلا نہیں سکتا کیونکہ جب وہ زندہ ہوتی ہیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی آپ کے لیے دعا کر رہا ہے، مجھے اپنی امی کی بہت یاد آتی ہے، جب میرا ڈرامہ آن ایئر جا رہا تھا تو وہ بہت پرجوش تھیں، کہتی تھیں میں دیکھوں گی، لیکن، یہ کہتے ہوئے حنا آفریدی آبدیدہ ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ والدہ کی موجودگی میں مجھے ایک اطمینان محسوس ہوتا تھا کہ کوئی میرے لیے دعاگو ہے، مگر اب میں خود کو خوفزدہ محسوس کرتی ہوں۔
حنا آفریدی کا کہنا ہے کہ میرا اپنی والدہ کے ساتھ بے حد گہرا تعلق تھا، میں اکثر اپنی والدہ کو تسلی دیتی تھی کہ وہ بیمار نہیں ہیں، والدہ کے انتقال کی خبر سن کر میں خاموش رہی کیونکہ میں اپنے جذبات چھپا سکتی ہوں اور اپنی ماں کی طرح مضبوط ہوں۔
انہوں نے کہا کہ والدہ کے انتقال کے بعد میں زیادہ سنجیدہ اور ذمے دار ہو گئی کیونکہ اب مجھے اپنے والد کا خیال رکھنا ہے، جو تقریباً 70 برس کے ہیں، میں اپنے والد کے سامنے مضبوط رہنے کی کوشش کرتی ہوں، زندگی نے مجھے ماں کے بعد بہت جلد بڑا کر دیا۔
حنا آفریدی کی اس جذباتی گفتگو نے مداحوں کو بھی غمزدہ کر دیا اور سوشل میڈیا پر صارفین ان کے لیے دعائیں اور ہمدردی کے پیغامات شیئر کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔