data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مائیکروسافٹ کے اے آئی ڈویژن کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 12 سے 18 مہینوں کے دوران مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے جدید ٹولز کچھ دفتری اور پیشہ ورانہ ملازمتوں کی نوعیت میں بنیادی تبدیلی لا سکتے ہیں اور بعض شعبوں میں انسانی عملے کی جگہ لے سکتے ہیں۔

ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے مائیکروسافٹ کے اے آئی ڈویژن کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان نے کہا کہ وائٹ کالر ملازمین، جن میں اکاؤنٹنٹس، کسٹمر سروس نمائندگان، قانونی اسسٹنٹس، تجزیہ کار اور آئی ٹی سپورٹ اسٹاف شامل ہیں، ان کے روزمرہ کے کام جیسے رپورٹ لکھنا، ڈیٹا تجزیہ کرنا، ای میل ڈرافٹ تیار کرنا، کوڈ لکھنا اور تحقیق کرنا، اب اے آئی کے ذریعے خودکار بنائے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنیاں اخراجات میں کمی اور کارکردگی بڑھانے کے لیے تیزی سے اے آئی ٹولز کو اپنا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ملازمتوں کی نوعیت بدل سکتی ہے اور بعض کردار مکمل طور پر ختم بھی ہو سکتے ہیں۔

یہ بیان ایک انتباہ کے طور پر بھی لیا جا رہا ہے کہ پیشہ ورانہ دنیا میں آئندہ چند برسوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں۔ سلیمان نے واضح کیا کہ اگرچہ مکمل نوکریاں ختم نہیں ہوں گی، لیکن ان کا طریقہ کار اور ذمہ داریاں واضح طور پر بدل جائیں گی۔

ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی کاروباری ماحول اور ملازمین کے ہنر دونوں پر اثر ڈالے گی۔ کمپنیاں مستقبل میں ایسے عملے کی تلاش کریں گی جو نہ صرف روایتی دفتری کام انجام دے سکے بلکہ اے آئی ٹولز کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ان کی صلاحیتوں کو بڑھا سکے۔ یہ منظرنامہ عالمی سطح پر ملازمتوں کے مستقبل اور کام کے طریقوں میں ایک نئے باب کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سکتے ہیں اے آئی

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن