data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بالوں کو گھنا اور دلکش بنانے کے لیے استعمال ہونے والی ہیئر ایکسٹینشنز کے بارے میں نئی سائنسی تحقیق نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب متعدد مصنوعات میں سرطان پیدا کرنے والے اور ہارمونز کو متاثر کرنے والے کیمیکلز موجود ہیں۔

امریکی ریاست میساچوسیٹس کے سائلنٹ اسپرنگ انسٹیٹیوٹ کی تحقیق میں آن لائن فروخت ہونے والی 43 معروف مصنوعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں فلیم ریٹارڈنٹس، فیتھالیٹس، کیڑے مار ادویات، اسٹائرین، ٹیٹراکلوروایتھین اور آرگینو ٹنز جیسے مضر مادوں کے آثار پائے گئے۔

ماضی کی تحقیقات کے مطابق یہ اجزا کینسر، مدافعتی نظام کی کمزوری اور نشوونما کے مسائل سے جڑے ہوئے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر الیسیا فرینکلن کا کہنا ہے کہ صارفین کو اکثر ان کیمیکلز کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں دی جاتی، حالانکہ یہ فائبرز براہ راست سر اور گردن کے قریب ہوتے ہیں۔ جب انہیں گرم کر کے اسٹائل کیا جاتا ہے تو زہریلے اجزا فضا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے جسم  میں داخل ہو سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر کئی معروف شخصیات بھی ہیئر ایکسٹینشنز استعمال کرتی ہیں، جس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خوبصورتی کی خاطر صحت کو خطرے میں ڈالنا دانشمندی نہیں اور صارفین کو مصنوعات کے اجزا جانچنے اور محتاط انتخاب کرنے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا