ویب ڈیسک :ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے وفاقی حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا۔ صنعتوں اور نجی شعبے کو غیر ضروری ہراسانی سے بچانے کی تیاری کر لی گئی۔

 سیلز ٹیکس کے تمام سرکاری عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے گا۔ وزارت صنعت و پیداوار نے بیرون ملک سے لیگل چینل کے ذریعے آنے والی سرمایہ کاری کو مزید چیکنگ سے استثنیٰ دینے اورایف بی آر، نیب اور ایف آئی اے کی غیر ضروری مداخلت روکنے کی سفارش کر دی ۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کا اختیار وزیراعظم آفس کو دیئے جانے کا بھی امکان ہے

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی عرب کے وزیر دفاع سے اہم ملاقات

کاروباری افراد اورغیر ملکی سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ دینے اور ریگولیٹری مداخلت محدود کرنے کی تجاویز بھی تیار کرلی گئی۔ وزارت صنعت و پیداوار نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ کے علاوہ مالیاتی اداروں سے آنے والی رقوم کی مزید اسکروٹنی نہ کرنے کی سفارش کر دی۔

دستاویز کے مطابق سرمایہ کاروں کے تحفظ کیلئے ایس ای سی پی قوانین میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ریگولیٹڈ اداروں کے خلاف کارروائی سے قبل ایس ای سی پی کی منظوری لازمی قرار دی جائے گی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیشرفت کا جائزہ

غیر ملکی سرمایہ کاروں کی گرفتاری اور رقم کی ضبطگی سے تحفظ دینے کی بھی تجویز ہے۔ نائیکوپ ہولڈرز کو بھی غیر ملکی سرمایہ کار کے طور پر قانونی تحفظ دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کا اختیار وزیراعظم آفس کو دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ٹیکس اپیل دائر کرنے پر ریکوری کو خودکار طور پر معطل کرنے، ودہولڈنگ ٹیکس آڈٹس میں رسک بیسڈ نظام متعارف کروانے اور معمولی ٹیکس غلطیوں کو فوجداری جرائم کی فہرست سے نکالنے کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔ حکومتی اصلاحات کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔  

رمضان میں سحر و افطار کے دوران بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کا اعلان

ریگولیٹرز اور سرکاری افسران کو نیک نیتی میں کیے گئے فیصلوں پر قانونی تحفظ دینے کی تجویز ہے۔ غیر قانونی مداخلت پر30 روز قید یا 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق ایک بار ریٹرن نظرثانی پر جرمانہ اور سرچارج ختم کرنے اور سیلز ٹیکس کے تمام سرکاری عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی