کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ٹیم کا چھاپہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ریکارڈ روم کاتالا لگا ہونے پر افسران کا اظہاربرہمی،تالا توڑ کر مطلوبہ دستاویزات لے گئے
ریکارڈ میں گڑ بڑ کی شکایات پر تحقیقات جاری ہیں، ریٹائرڈ افسر سے رابطہ کرنے کی کوششیں
کراچی میں کے ایم سی ہیڈ آفس میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل ٹیم نے چھاپہ مارا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیم کے ایم سی افسران کے ساتھ دوسری منزل پر واقع لینڈ ریکارڈ کے ریکارڈ روم پہنچی تھی، ریکارڈ روم کو تالا لگا ہوا تھا جس پر افسران برہمی کا اظہار کیا۔ایف ائی اے کی ٹیم نے ریکارڈ روم کا تالا توڑ کر مطلوبہ دستاویزات لیے اور چلئے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ میں گڑ بڑ کی شکایات پر ایف آئی اے میں تحقیقات جاری ہیں، حکام کے مطابق کے ایم سی کے ریٹائر افسر دفتر کی چابی ساتھ لے گئے تھے۔کے ایم سی کے افسر 2 فروری کو ریٹائر ہوگئے تھے، تاہم اس کے بعد کسی نئے افسر کی تعیناتی نہیں کی گئی۔چھاپے کے دوران ڈائریکٹر لینڈ اور عملہ مسلسل ریٹائرڈ افسر سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا رہا، تاہم تاحال چابی حاصل نہیں کی جاسکی۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ تک رسائی حاصل کر کے مکمل جانچ کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے ریکارڈ روم کے ایم سی
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔
وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید :