بھارت کشمیریوں کی شناخت، تہذیب و تمدن پر حملہ آور ہے، حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ترجمان حریت کانفرنس نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ حریت رہنماﺅں، کارکنوں، نوجوانوں، سول سوسائٹی کے کارکنوں، صحافیوں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی شناخت، تہذیب و تمدن پر حملہ آور ہے اور وہ حریت رہنماﺅں کو مسلسل جیلوں اور عقوبت خانوں میں رکھ کر انہیں بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین کلوال، پیر سیف اللہ، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، بلال صدیقی، مولوی بشیر اندرابی، مشتاق الاسلام اور دیگر جھوٹے مقدمات میں مسلسل نظربند ہیں جس کی وجہ سے ان کے اہلخانہ سخت ذہنی کرب میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ حریت رہنماﺅں، کارکنوں، نوجوانوں، سول سوسائٹی کے کارکنوں، صحافیوں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 1947ء میں جموں و کشمیر پر غیر قانونی طور پر قبضہ جما لیا تھا اور اس نے علاقے پر اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے وہاں دس لاکھ سے زائد فورسز اہلکار تعینات کر رکھے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت کا 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کا غیر قانونی اقدام کشمیر کو نوآبادیاتی بنانے کی جانب ایک اور قدم تھا۔ اس کارروائیوں کے بعد بھارت نے کشمیریوں کے گھروں، زمینوں اور دیگر املاک پر قبضے کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت دراصل مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے، کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ بھارت کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنی صفوں میں اتحاد و اتفاق کو مضبوط بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حریت کانفرنس نے کہا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔