کشمیری عوام اقوام متحدہ کے تسلیم حق خودارادیت کے حصول کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق کشمیریوں کی تحریک آزادی کو عالمی سطح پر ایک منصفانہ جدوجہد کے طور پر قبول کیا گیا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت بھی کشمیری عوام کو بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کیلئے پرامن جدوجہد جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کشمیریوں کی تحریک آزادی کو عالمی سطح پر ایک منصفانہ جدوجہد کے طور پر قبول کیا گیا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت بھی کشمیری عوام کو بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنے کیلئے پرامن جدوجہد جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔تنازعہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کو ان کے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی مقبوضہ علاقے کے عوام کی آواز ہے اور وہ حق خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بھارت فالس فلیگ آپریشنز اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کی حمایت کرنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حق خودارادیت کے حصول کشمیریوں کی کشمیری عوام
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :