Express News:
2026-07-24@00:59:54 GMT

دور اندیش فیض احمد فیض

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

13 فروری 1911 میں سیالکوٹ میں جنم لینے والے فیض احمد فیض کو حصول تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوئے ہی ادراک ہوگیا تھا کہ عدم مساوات کیا ہے، ظلم و جبر و استحصال کیا ہے کیونکہ جس دور میں فیض احمد فیض نے شعور کی دنیا میں قدم رکھا تو وہ دور ایسا تھا کہ جب برصغیر پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی کی غلامی کے سو برس جوکہ 1857 میں مکمل ہوئے پھر برٹش سرکار کے قریب قریب ستر برس دورے سامراجی گورنمنٹ کے پورے ہو چکے تھے، البتہ برٹش سرکار کا سامراجی دور کا تسلسل ابھی جاری تھا۔ ان تمام تر سامراجی جبر کے دور میں اگر فیض احمد فیض ترقی پسند نظریات کا ادراک کر چکے تھے تو تعجب کی کیا بات ہے۔

وہ نہ صرف ان حالات کا مشاہدہ کر رہے تھے بلکہ اس سامراجی جبر کے خلاف سینہ سپر بھی ہو چکے تھے۔ 1935 میں جب ان کی عمر فقط 24 برس تھی تو وہ اپنے نظریات کے باعث کافی نامور ہو چکے تھے۔ چنانچہ 1935 میں ہی جب فرانس کے شہر پیرس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ادبا کی انجمن قائم ہوئی تو سید سجاد ظہیر جنھوں نے ملک راج آنند کے ساتھ اس ترقی پسند ادبا کی انجمن میں شرکت کی تھی تو سید سجاد ظہیر نے برصغیر میں ترقی پسند ادبا کی انجمن قائم کرنے کا عزم کیا۔

انھوں نے جب اس سلسلے میں پنجاب کا دورہ کیا تو سید سجاد ظہیر نے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم، میاں افتخار الدین، رشید جہاں، فیروز الدین، منصور محمود جیسے جید ادبا سے ملاقات کی تو انھوں نے 25 سالہ فیض احمد فیض سے بھی ملاقات کی اور انجمن کے قیام کے سلسلے میں ان سے مشاورت بھی کی۔ یوں اپریل 1936 میں لکھنو میں ترقی پسند ادبا کی انجمن قائم ہوئی جس کا پورا نام انجمن ترقی پسند مصنفین تجویز ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب برصغیر میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ 1939 میں دوسری عالمگیر جنگ کا آغاز ہو چکا تھا، اس جنگ میں جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر پوری دنیا کو فتح کرنے کے عزم کے ساتھ دنیا پر حملہ آور ہوا تھا۔ یہ ضرور تھا کہ دنیا بھر کے محنت کش ایک امید کے ساتھ سوویت یونین کی جانب دیکھ رہے تھے جہاں 1917 میں محنت کشوں کی آمریت قائم ہو چکی تھی، گویا وہ دور بہت ہنگامہ خیز دور تھا۔ چنانچہ اس دور میں فیض احمد فیض بھی برصغیر کے لوگوں کا لہو اپنی شاعری کو ذریعہ بنا کر گرما رہے تھے۔

یہ ضرور تھا کہ فیض احمد فیض 1929 میں ہی شاعری کا آغاز کر چکے تھے، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ فیض احمد فیض برصغیر کی آزادی کے نہ صرف حامی تھے بلکہ وہ خود اس تحریک میں شریک بھی تھے البتہ یہ ضرور تھا کہ وہ حقیقی آزادی کے لیے کوشاں تھے۔ وہ بھگت سنگھ کے اس نظریے کے قائل تھے کہ ہمیں ایسی آزادی سے کچھ حاصل نہ ہوگا جس آزادی کے بعد ہم برٹش سرکار کی بجائے مقامی اشرافیہ کے غلام بن جائیں، چنانچہ جب 1947 میں برصغیر کی آزادی کا وقت قریب آیا تو دور اندیش فیض احمد فیض نے آنے والے حالات کا حقیقی ادراک کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے، یہ جغرافیائی آزادی ہے، ہمیں سماجی آزادی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ انھوں نے ایک نظم لکھی جوکہ آزادی سے دو ماہ قبل ہی ماہ جون میں شائع ہوگئی جس کے بول تھے:

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل

کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل

جگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلن

کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں

کدھر سے آئی نگار صبا کدھر کو گئی

ابھی چراغ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں

ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی

نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

مگر جب مارچ 1951 کو فیض احمد فیض و دیگر 14 لوگوں پر بغاوت کا مقدمہ قائم ہوا تو انھوں نے اپنی صفائی ان الفاظ میں پیش کی:

 وہ بات جس ذکر سارے فسانے میں نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوارگزری

البتہ جب اکتوبر 1958 میں ملک بھر میں ایوبی آمریت نافذ ہوئی تو فیض احمد فیض اپنے لوگوں سے یوں مخاطب ہوئے۔

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

چلی ہے رسم کوئی نہ سر اٹھا کے چلے

جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے

نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے

فیض احمد فیض نے تمام قسم کا جبر برداشت کیا لیکن اپنے ترقی پسند نظریات کا پرچار کرتے رہے اور یوں کہا کہ:

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

البتہ ذوالفقار علی بھٹو سے ان کے اچھے مراسم رہے اور وہ ان کی کابینہ میں مشیر بھی رہے۔ شاید اسی عوامی دور میں انھوں نے یہ نظم رقم کی تھی:

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا

بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں

تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے

پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زباں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

البتہ چار اور پانچ جولائی کی درمیانی شب جب ملک میں ضیا الحق نے آمریت مسلط کی تو فیض احمد فیض پھر زیر عتاب آ گئے۔ یہاں تک کہ ضیا الحق نے یہ حکم جاری کیا کہ فیض احمد فیض کے بینک اکاؤنٹ چیک کرو، کتنی رقم ہے۔ یہ خبر نہ تھی کہ جس کے گھر میں راشن مشکل سے آتا ہو، اس کے اکاؤنٹ میں رقم کہاں، وہ کہتے تھے۔

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

البتہ 20 نومبر 1984 کو وہ گویا رخصت ہوئے کہ

دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

لیکن 13 فروری2026 کو فیض احمد فیض کا 115 واں جنم دن ان کے چاہنے والے جوش و انقلابی جذبے کے ساتھ منا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ادبا کی انجمن فیض احمد فیض انھوں نے کے ساتھ قائم ہو چکے تھے تھا کہ

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف