لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی ایچیسن کالج لاہور کے اساتذہ وطلبہ کیساتھ خصوصی نشست
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی ایچیسن کالج لاہور کے اساتذہ و طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔اس دوران اس سیشن کے دوران طلبہ اور اساتذہ نے بے جھجھک سوالات کیے جن کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے انتہائی تحمل اور مدبرانہ انداز میں جوابات دیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی سلامتی، دہشت گردی کے موجودہ چیلنجز سمیت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورکس اور پاکستان کے خلاف جاری ہائبرڈ وارفیئر پر تفصیلی گفتگو کی۔
واٹس ایپ کی بندش کا خدشہ، میٹا نے روس پر الزام عائد کر دیا
اس موقع پر ایچیسن کالج کے پرنسپل نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج کے دن تک ایچیسن کالج اور پاک فوج کا ایک مضبوط تعلق قائم ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ اس سیشن کے دوران طلبہ اور اساتذہ نے بے جھجھک سوالات کیے جن کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے حقائق کو مدِنظر رکھتے ہوئے انتہائی تحمل اور مدبرانہ انداز میں جوابات دیے۔
ایچیسن کالج لاہور کے فیکلٹی ممبران نے اس سیشن کو انتہائی اہم قرار دیا اور اصرار کیا کہ آئندہ بھی اس طرح کے سیشنز کا انعقاد جاری رہنا چاہئے، سوشل میڈیا کے اس دور میں سچ اور جھوٹ کی پہچان کرنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے لہٰذا ایسے سیشنز سے براہِ راست حقائق کو جاننے کا موقع ملتا ہے۔
T20ورلڈ کپ: اٹلی کیخلاف نیپال کی بیٹنگ جاری
طلبہ اور فیکلٹی ممبران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے متحد رہیں گے، ہمیں فخر ہے کہ ہماری افواج دشمن کی ہر سازش کو ہر محاذ پر ناکام بنا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔