اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی کو دستیاب سہولیات کی رپورٹ سامنے آگئی جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا ہےکہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد تک محدود رہ گئی۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق رپورٹ میں عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹرعاصم یوسف سے معائنہ کرایا جائے، ان کا طبی معائنہ کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے، ان کی قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کتابیں فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق حفاظت اور سکیورٹی سے متعلق درخواست گزارنے بیان کیا کہ اس حوالے سے انہیں کوئی تشویش نہیں ہے، عمران خان نے راقم کوبتایا کہ ان کے زیرِ استعمال کمپاؤنڈ میں نگرانی کے لیے تقریباً 10 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں، اگرچہ ایک کیمرے کی کوریج غسل خانے کےحصے تک ہےتاہم کمرے/سیل کے اندر کوئی کیمرہ نصب نہیں ہے۔

پشاور میں بارودی مواد کا دھماکہ

رپورٹ کے مطابق عمران خان تقریباً 9:45 پرناشتہ کرتے ہیں، 11:30 بجے سے لگ بھگ ایک گھنٹے تک قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں، پھروہ اپنے لیے دستیاب محدود آلاتِ ورزش استعمال کرتے ہوئےجسمانی ورزش کرتے ہیں، دوپہر 1:15 پرغسل کےبعد بانی پی ٹی آئی کو محفوظ کمپاؤنڈ کے اندر موجود چہل قدمی کے شیڈ تک رسائی دی جاتی ہے، کمپاؤنڈ کے اندر وہ بیٹھ سکتے ہیں یا چہل قدمی کرسکتے ہیں، ان کا دوپہر کا کھانا تقریباً 3:30 سے 4:00 بجے کے درمیان ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پرعمران خان نے اپنی حفاظت اور سکیورٹی کے بارے میں کوئی خدشہ ظاہر نہیں کیا، درخواست گزار نے بیان کیا کہ ان کا روزمرہ معمول گرمیوں اور سردیوں میں مختلف ہوتا ہے، تقریباً شام 5:30 بجے سے اگلی صبح 10:00 بجے تک بانی پی ٹی آئی اپنے سیل میں مقید رہتے ہیں، ان کا سیل بلاک اڈیالا جیل کے اندر تقریباً 5منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے۔

امریکہ سے مذاکرات ہوں یا دباؤ بڑھایا جائے،میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوگی: ایران کا دو ٹوک مؤقف

رپورٹ کے مطابق سیل بلاک کے کچن میں برتن، کراکری اور کھانا پکانے کا سامان موجود ہے،  زیادہ تر اشیائے خورونوش مرتبانوں اور بند ڈبوں میں محفوظ تھیں،  اشیائے خورو نوش میں مصالحہ جات اور خشک میوہ جات شامل تھے،کچن کی صفائی کے حوالے سے کچھ بہتری کی گنجائش محسوس کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق درخواست گزار نے بتایا کہ وہ صبح ناشتے میں ایک کپ کافی، دلیہ اور چند کھجوریں استعمال کرتے ہیں، دوپہر کا کھانا ان کےمطابق ہفتہ وارمنصوبہ بندی کےتحت منتخب کیاجاتا ہے، دوپہر کے کھانے کے اخراجات عمران خان کا خاندان برداشت کرتا ہے، دو دن مرغی، دو دن گوشت، دو دن دال یا دو دن چاٹ یا اسنیکس شامل ہوتے ہیں۔

بھارت کو 4 دن میں منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں،مٹھی بھر دہشتگرد ہمارے لیے کچھ نہیں : فیصل کریم کنڈی

رپورٹ کے مطابق عمران خان نے مزید بتایا کہ انہیں بوتل بند پینے کا پانی (نجی کمپنی کا پانی ) دستیاب ہے، وہ مکمل کھانا نہیں لیتے بلکہ پھل، دودھ اور کھجوریں استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایاگیا کہ عمران خان کے سیل کے اندر 3 ہائی وولٹیج بلب، ایک چھت والا پنکھا اور ایک بلوور ہیٹر موجود ہے، سیل میں 2 میزیں، ایک وال کلاک، ایک چارپائی/بیڈ، ایک کرسی اور ایک چھوٹا ریک موجود تھا جب کہ سیل کے اندر 32 انچ کا ٹی وی دیوار پر نصب تھا تاہم چلانے پر وہ خراب پایا گیا، سیل میں کوئی الماری موجود نہیں، کپڑے پانچ ہینگرز پر لٹکائے گئے تھے، سیل کے اندر فراہم کردہ کرسی غیر آرام دہ پائی گئی، سیل میں ایک سنگل بیڈ میٹریس، 4 تکیے اور 2 کمبل موجود تھے، سیل کے اندر جائے نماز ،تسبیح موجود تھی، 2 تولیے بھی تھے۔

دنیا کی توجہ سندھ کی طرف اس لیے مرکوز ہوئی کیونکہ ہم نے نتائج دیئے: وزیر اعلیٰ سندھ

رپورٹ کے مطابق تقریباً 100 کتابیں ایک میز پر رکھی تھیں، ساتھ دو سیب،دو ڈمبلز بھی تھے،  ٹشو پیپر، ماؤتھ واش، ائیر فریشنر، شیو جیل اور شیو کٹ بھی موجود تھے، سیل کے اندر تقریباً ساڑھے 4 ضرب ساڑھے 4 فٹ کا ٹوائلٹ تھا ، ٹوائلت کو 4 فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا تھا اور اس کی چھت نہیں تھی، ٹوائلٹ کے باہر گرم اور ٹھنڈےپانی کی سہولت، واش بیسن اور آئینہ موجود تھا۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ تقریباً 3  سے 4 ماہ قبل، یعنی اکتوبر2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6×6 (بالکل نارمل) تھی، اب ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک ہے جس کا علاج پمز کے ڈاکٹرز نے کیا، اس کے بعد مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت شروع ہوئی،  متعدد بار اُس وقت کےسپرنٹنڈنٹ جیل کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظرکے مدھم ہونے کی شکایت سےآگاہ کیا ، جیل حکام کی جانب سے ان شکایات کے ازالے کےلیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا، بعد ازاں اچانک دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہوگئی جس کےبعد پمز اسپتال کے ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر محمد عارف کو کے معائنے کے لیے بلایا گیا۔

خطے میں لاکھوں خاندان موسمیاتی تبدیلی اور سماجی چیلنجز سے متاثر ہیں: آصفہ بھٹو

رپورٹ کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا (کلاٹ) بن گیا تھا جس نے شدید نقصان پہنچایا، علاج (بشمول ایک انجیکشن) کےباوجود ان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15فیصد تک محدود رہ گئی۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق عمران خان سیل کے اندر کی بینائی کرتے ہیں سیل میں

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف