کراچی میں پانی بحران شدت اختیار کرگیا، شہری شدید اذیت میں مبتلا
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد ایک بار پھر پانی کے سنگین بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں متعدد رہائشی علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے نل خشک پڑے ہیں اور مکین بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مرکزی سپلائی لائن میں خرابی کے باعث پانی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی جس کے نتیجے میں شہریوں کو مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہے اور گھریلو ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوچکا ہے۔
واٹر کارپوریشن کے مطابق گلشن اقبال بلاک 19 میں 84 انچ قطر کی مرکزی لائن میں رساؤ سامنے آیا تھا جس کی مرمت کا کام پیر سے شروع کیا گیا۔ اس دوران دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے یومیہ تقریباً 200 ملین گیلن پانی کی فراہمی کم کردی گئی جس کا اثر شہر کے وسیع حصے پر پڑا۔
کورنگی، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، گلستان جوہر، لیاقت آباد، ناظم آباد، صدر، ڈیفنس اور دیگر علاقوں میں چار روز سے پانی کی بندش نے شہریوں کو سخت پریشانی میں مبتلا رکھا۔
ترجمان کے مطابق مرمتی عمل مقررہ وقت سے پہلے مکمل کر لیا گیا ہے اور لائنوں میں پانی کی چارجنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بدھ اور جمعرات تک فراہمی معمول پر آجائے گی، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں آئے روز لائنوں کے پھٹنے، رساؤ اور بجلی کی بندش جیسے مسائل معمول بن چکے ہیں جس کے باعث پانی کا بحران مستقل مسئلہ بن گیا ہے۔
دوسری جانب سوک سینٹر جیسے اہم تجارتی مراکز میں بھی پانی کی عدم دستیابی سے ملازمین اور نمازیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ بعض مساجد میں وضو کے لیے پانی میسر نہ رہا۔
لانڈھی اور شیرپاؤ ہائیڈرنٹس سے بھی سپلائی معطل رہی جب کہ صفورہ اور نیپا چورنگی کے اطراف بھی صورتحال تشویشناک رہی۔ شہریوں کو امید ہے کہ مرمت کے بعد پانی کی فراہمی مستقل بنیادوں پر مستحکم کی جائے گی تاکہ انہیں بار بار اس اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔