کسی بھی لمحے اسلام آباد مارچ کی کال آسکتی ہے، مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے خبردار کیا ہے کہ پارٹی قیادت کسی بھی وقت اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے سکتی ہے۔
پریس کلب پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حالیہ رپورٹ نے کارکنان اور عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے اور اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو احتجاجی دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کی مکمل ذمہ داری وفاقی اور پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول آنکھوں کے معائنے کے دوران اہلِ خانہ کو موجود نہ ہونے دینا باعثِ تشویش ہے جب کہ عدالت کی جانب سے 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود تحریری حکم نامہ جاری نہ ہونا بھی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعظم کو ذاتی معالج تک رسائی نہ دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ اس سلسلے میں آئی جی جیل خانہ جات اور متعلقہ حکام کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد مارچ کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو 3 ماہ تک صرف آنکھوں کے قطروں پر رکھا گیا، جو ان کے مطابق سنگین غفلت ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران خود اپنے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور کارکنان ہر قسم کی کال کے لیے تیار رہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ نماز میں بانی پی ٹی آئی کی صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی جائے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ کروڑوں عوام کے حقِ صحت کا ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک