کچے کے انتہائی خطرناک ڈاکو گل حسن لولائی نے سرنڈر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
صادق آباد میں کچے کے انتہائی خطرناک ڈاکو گل حسن لولائی نے سرنڈر کردیا، ڈاکو کے سر کی قیمت ایک کروڑ مقرر تھی۔ پولیس کے مطابق کچے کے ڈاکوئو ں کے خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ آپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ڈی پی او عرفان سموں نے بتایا کہ انتہائی مطلوب خطرناک ڈاکو گل حسن لولائی نے سرنڈر کر دیا، جس کی سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے کہا گیا کہ اب تک 171 انتہائی مطلوب ڈاکوں نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں، رواں سال آپریشن کے دوران کچے کے 68 خطرناک ڈاکو مارے جا چکے ہیں۔اس کے علاوہ آپریشن کے دوران 108 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے جبکہ 100 سے زائد سہولت کاروں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ڈی پی او نے بتایا کہ سرنڈر کرنے والے 15 ڈاکوں کے سروں کی مجموعی قیمت 9 کروڑ روپے تھی، جس سے کچے میں امن و امان کے قیام میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔