بھارت کے شہر احمد آباد میں پیش آنے والے ہولناک طیارہ حادثے سے متعلق بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی تازہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث نہیں بلکہ مبینہ طور پر پائلٹ کے دانستہ اقدام کے نتیجے میں پیش آیا۔

یہ بھی پڑھیں:احمد آباد ایئر انڈیا حادثہ، طیارے کے انجن بند ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

غیر ملکی اور بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے شبہ ہوتا ہے کہ دونوں انجن دستی طور پر بند کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں طیارہ گر کر تباہ ہوا اور 260 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں ابتدائی طور پر کسی بڑی مکینیکل خرابی کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے۔ بلیک باکس ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ طیارے کے ایندھن کے سوئچ مبینہ طور پر بند کیے گئے تھے، جس سے دونوں انجنوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

The Aircraft Accident Investigation Bureau (AAIB) has clarified that the #investigation into the June 2025 Air India Flight AI-171 crash in #Ahmedabad is ongoing, refuting reports of conclusions that balmed the pilot for the #incident.

More details ???? https://t.co/AOIEJVd2yy… pic.twitter.com/Y7D2W9ftC5

— The Times Of India (@timesofindia) February 12, 2026

اطالوی اخبار کوریری دے لا سیرا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ طیارے کے کمانڈر، کیپٹن سمیّت سبروال، نے مبینہ طور پر ایندھن کے سوئچ آف کیے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ حادثے سے تقریباً ایک ماہ قبل وہ ڈپریشن کا شکار تھے، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

مزید رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ایئر لائن نے متاثرہ خاندانوں کو مالی معاوضے کی پیشکش کی ہے، بشرطیکہ وہ ایئر لائن یا طیارہ ساز کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی نہ کریں۔ اس حوالے سے ایئر لائن کی جانب سے باضابطہ وضاحت کا انتظار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایئر انڈیا حادثہ، بدقسمت خاندان کی آخری سیلفی وائرل

تحقیقات تاحال جاری ہیں اور حتمی رپورٹ سامنے آنا باقی ہے، جس کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات کا مکمل تعین کیا جا سکے گا۔

یاد رہے کہ یہ المناک حادثہ 2025ء میں اس وقت پیش آیا جب بھارتی ایئر لائن کی ایک پرواز احمد آباد ایئرپورٹ سے لندن کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ طیارہ اڑان بھرنے کے فوراً بعد آبادی کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے میں طیارے میں سوار مسافروں اور عملے سمیت مجموعی طور پر 260 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ ایک مسافر کے معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایئر لائن

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار