محمود خان اچکزئی---فائل فوٹو

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بانئ پی ٹی آئی کے علاج کا مطالبہ کر دیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے احتجاج میں کسی کو گالی دی جائے گی نہ ہی کوئی پتھر اٹھایا جائے گا، احتجاج مکمل طور پر پُرامن ہو گا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ آج کا احتجاج بانئ پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی کا فوری علاج کرایا جائے، علاج کرانا بانئ پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ گھر والوں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بانی کا معائنہ ان کے ذاتی معالج سے کرایا جائے۔

محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن گئے، نوٹیفکیشن جاری

اس سلسلے میں اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

 انہوں نے کہا کہ جیل کے ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث بانی کی بینائی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ بانی کی بیماری کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اگر انہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جاتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے، اگر خدانخواستہ ان کی بینائی متاثر ہوتی ہے تو اس کا ذمے دار کون ہو گا؟

محمود خان اچکزئی نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ آنے والی تمام سڑکیں بند ہیں، تاہم ہم پُرامن احتجاج کے وعدے پر قائم ہیں اور اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن