اسرائیلیوں پر ایران جنگ کے راز استعمال کر کے شرطیں لگانے کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسرائیلی حکام نے اپنے ایک شہری اور ایک فوجی ریزرو اہلکار پر فردِ جرم عائد کر دی جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ سے متعلق خفیہ معلومات استعمال کر کے شرطیں لگائیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا ایران پر حملہ، ایرانی سپریم لیڈر کا خطرناک بیان
حکام کے مطابق تحقیقات کے بعد پراسیکیوشن نے دونوں ملزمان پر سنگین سیکیورٹی جرائم، رشوت ستانی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
بیان میں ان کے عہدے یا سیکیورٹی کلیئرنس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ ان شرطوں سے کوئی عملی یا آپریشنل نقصان نہیں ہوا تاہم اسے سنگین اخلاقی ناکامی اور ریڈ لائن کراس کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
ملزمان میں سے ایک کے وکیل نے اپنے مؤکل کو انتہائی باعزت شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کی سیکیورٹی کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور ان پر عائد الزامات نامناسب اور امتیازی کارروائی ہیں۔
مشتبہ شرطیں اور منافعمیڈیا رپورٹس کے مطابق ایک صارف نے جون 2025 میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے متعلق غیر معمولی درستی کے ساتھ متعدد شرطیں لگائیں۔ بتایا گیا ہے کہ 13 جون کو ایران پر اسرائیل کے ابتدائی حملے سے چند گھنٹے قبل ہزاروں ڈالر کی شرط لگائی گئی۔ مجموعی طور پر مبینہ منافع تقریباً 150,000 ڈالر تک پہنچ گیا۔
مزید پڑھیے: ایران کا اسرائیل پر پھر تباہ کن حملہ، متعدد ہلاک و زخمی
یہ شرطیں اسرائیل کے اچانک حملے کے وقت سے متعلق تھیں جس میں ایران کی فوجی تنصیبات، اعلیٰ حکام، کمانڈرز، جوہری تنصیبات اور سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
پولی مارکیٹ کا پس منظریہ شرطیں امریکی پلیٹ فارم پولی مارکیٹ پر لگائی گئیں جو صارفین کو سیاسی اور عالمی حالات حاضرہ کے واقعات پر شرط لگانے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم پہلے بھی تنازعات کا شکار رہ چکا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران پر امریکا اسرائیل حملہ خطے کے امن پر کاری وار تھا، صدر مسعود پیزشکیان
جنوری میں ایک نامعلوم تاجر نے مبینہ طور پر 32 ہزار ڈالر کی شرط کو 400 ہزار ڈالر سے زائد میں تبدیل کر دیا تھا جب اس نے درست پیش گوئی کی کہ ریاستہائے متحدہ امریکا وینزویلا پر حملہ کرے گا اور صدر نکولس مادورو کو ہٹا دے گا۔ یہ شرط اس وقت لگائی گئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 جنوری کو اچانک کارروائی کا حکم دیا۔ اس معاملے میں تاحال کسی فوجداری مقدمے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسرائیل پر ایران پر حملہ اسرائیلیوں کی سٹے بازی ایران.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیل پر ایران پر حملہ ایران ایران پر
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔